ایرانی پاسداران انقلاب کے ترجمان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک دھمکی آمیز چیلنج دے مارا ہے کہ اگر ایرانی بحریہ واقعی ختم ہو چکی ہے جیسا کہ ٹرمپ کا دعویٰ ہے، تو اب ہمت کرو اور سامنے آؤ!ان کے ایک طوفانی بیان میں کہا گیا کہ ابھی تک وہ میزائل استعمال بھی نہیں کیے جو 2025 میں تیار ہوئے تھے، جبکہ جون 2025 کے بعد تیار ہونے والے جدید میزائل تو ابھی دنیا نے دیکھے بھی نہیں۔ یہ اشارہ واضح ہے کہ ایران کے پاس اب بھی طاقتور ہتھیاروں کا خزانہ محفوظ ہے، اور جنگ کی آگ مزید بھڑک سکتی ہے۔

دوسری طرف، صدر ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کو کھلوا کر محفوظ بنانے کے لیے نیٹو ممالک پر زور دیا ہے اور خبردار کیا کہ اگر اتحادیوں نے امریکا کی مدد نہ کی تو نیٹو کا مستقبل انتہائی تاریک اور برا ہو جائے گا۔ ٹرمپ نے یورپ اور خاص طور پر چین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یہ ممالک تیل کی ترسیل کے لیے اس اہم سمندری راستے پر انحصار کرتے ہیں، لہٰذا انہیں اپنے جنگی جہاز بھیج کر حفاظت میں حصہ لینا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر چین نے تعاون نہ کیا تو شی جن پنگ سے طے شدہ ملاقات میں تاخیر ہو سکتی ہے، جو عالمی طاقتوں کے درمیان کشیدگی کو مزید بڑھا دے گی۔







Discussion about this post