امریکہ نے ایران کے خلاف ایک نئی، انتہائی جرات مندانہ اور متنازعہ حکمت عملی اپنا لی ہے. اب وہ ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سمیت 10 انتہائی اہم رہنماؤں کی "معلومات” کے بدلے 10 ملین ڈالر انعام کا اعلان کر چکا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کے مشہور "ریوارڈز فار جسٹس” پروگرام نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر ایک واضح اور دھمکی آمیز بیان جاری کیا ہے۔ اس بیان میں کہا گیا ہے کہ جو بھی شخص ان 10 ایرانی اعلیٰ شخصیات کے بارے میں "قابل اعتماد معلومات” فراہم کرے گا، اسے نہ صرف 10 ملین امریکی ڈالر کا بھاری انعام ملے گا بلکہ وہ امریکا منتقل ہونے اور وہاں نئی زندگی شروع کرنے کا اہل بھی قرار پائے گا۔
Got information on these Iranian terrorist leaders?
Send us a tip. It could make you eligible for a reward and relocation. pic.twitter.com/y7avkqdGWw
— Rewards for Justice (@RFJ_USA) March 13, 2026
ان 10 ناموں میں شامل ہیں:
- سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای
- وزیر انٹیلی جنس اسماعیل خطیب
- سپریم کونسل کے سیکرٹری علی لاریجانی
- نائب چیف آف اسٹاف علی اصغر حجازی
- میجر جنرل یحییٰ رحیم صفوی
- بریگیڈیئر جنرل اسکندر مومنی اور دیگر انتہائی بااثر فوجی اور سیاسی شخصیات۔
یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب تہران میں یوم القدس کی عظیم الشان ریلی جاری تھی۔ علی لاریجانی سمیت کئی اہم رہنما عوام کے درمیان کھلے دل سے شریک ہوئے، ہزاروں لوگوں کے ساتھ سیلفیز لیں، امریکا مخالف نعرے لگائے اور کسی بھی دھمکی یا خوف کو یکسر مسترد کر دیا۔ ایرانی قیادت نے اس انعام کو نہ صرف بے وقعت قرار دیا بلکہ اسے اپنی مضبوطی اور عوامی حمایت کا ثبوت بھی قرار دیا۔یہ اقدام امریکہ کی جانب سے ایران پر دباؤ بڑھانے کی ایک اور کڑی ہے۔ ایک طرف فضائی حملوں اور فوجی دھمکیاں، دوسری طرف انعاموں کی صورت میں "اندرونی خلفشار” پیدا کرنے کی کوشش۔ مگر ایران کی قیادت اسے "بزدلانہ چال” قرار دے کر مزید متحد نظر آ رہی ہے۔ عالمی سطح پر یہ خبر تیزی سے پھیل رہی ہے اور مشرق وسطیٰ کے حالات کو مزید گرم کر رہی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ 10 ملین ڈالر کا لالچ کسی کو للچا سکے گا، یا ایرانی نظام کی مضبوطی اور عوامی یکجہتی اسے ناکام بنا دے گی؟







Discussion about this post