نادرا نے ایک بار پھر ڈیجیٹل پاکستان کے خواب کو حقیقت کا روپ دینے کی طرف ایک مضبوط قدم اٹھایا ہے، جہاں ترجمان نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی کا واضح اعلان ہے کہ ڈیجیٹل شناختی کارڈ فزیکل کمپیوٹرائزڈ نیشنل آئی ڈی کارڈ (CNIC) کے بالکل مساوی اور قانونی طور پر معتبر ہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب بعض سرکاری دفاتر، بینکوں، ٹیلی کام کمپنیوں اور دیگر اداروں میں اب بھی ڈیجیٹل کارڈ کی بجائے فزیکل کارڈ یا اس کی فوٹوکاپی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ نادرا کا کہنا ہے کہ یہ رویہ نہ صرف نادرا آرڈیننس اور اس کے تحت بننے والے ضوابط کے خلاف ہے بلکہ شہریوں کی سہولت اور ڈیجیٹلائزیشن کی راہ میں رکاوٹ بھی ہے۔ ڈیجیٹل شناختی اسناد کو شناخت کا مکمل اور درست ثبوت قرار دیا گیا ہے، جو پاک آئی ڈی ایپ میں دستیاب ہے اور QR کوڈ، بائیومیٹرکس اور دیگر جدید فیچرز سے محفوظ ہے۔ ترجمان نے زور دیا کہ شناختی کارڈ کی غیر ضروری فوٹوکاپیاں بنانا اور جمع کرانا اب متروک ہو چکا ہے۔ یہ عمل نہ صرف وقت ضائع کرتا ہے بلکہ شناختی چوری اور فراڈ کے خطرات کو بھی بڑھاتا ہے۔ تمام سرکاری محکمے، عوامی ادارے، مالیاتی ادارے اور ٹیلی کام آپریٹرز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ڈیجیٹل شناختی کارڈ کو قبول کریں اور اس کی تصدیق کے لیے متعلقہ نظام استعمال کریں۔اگر کوئی ادارہ ڈیجیٹل کارڈ قبول کرنے سے انکار کرے یا غیر ضروری فزیکل کارڈ/فوٹوکاپی کا مطالبہ کرے تو شہری فوری طور پر نادرا کے سرکاری شکایتی نظام (ہیلپ لائن، ویب سائٹ یا ایپ کے ذریعے) سے رابطہ کر کے اپنی شکایت درج کرا سکتے ہیں۔ نادرا اس معاملے کی فوری تفتیش اور کارروائی کا وعدہ کر رہا ہے۔






Discussion about this post