ایران کی تاریخ میں ایک نئی فصل کا آغاز ہوا ہے جہاں عزم اور استقامت کی آواز گونج رہی ہے۔ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای، جو اب اسلامی جمہوریہ ایران کے نئے سپریم لیڈر بن چکے ہیں، نے اپنا پہلا بیان جاری کیا جو نہ صرف الفاظ کا مجموعہ ہے بلکہ ایک قوم کے دلی جذبات اور ناقابل شکست ارادے کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے آبنائے ہرمز کو دشمن پر دباؤ ڈالنے کا ایک طاقتور ہتھیار قرار دیا اور واضح اعلان کیا کہ یہ اہم بحری راستہ بند رکھا جائے گا تاکہ ظالم قوتوں کی کمزوری کو بے نقاب کیا جا سکے۔ یہ بیان محض ایک اعلان نہیں، بلکہ عالمی طاقتوں کو ایک ایسی چیلنج ہے جو ایران کی مزاحمتی روح کو ظاہر کرتی ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ ہر شہید کا بدلہ لیا جائے گا، اور اس خون کے بدلے کے حق سے ایک لمحے کے لیے بھی دستبردار نہیں ہوا جائے گا۔ انہوں نے امریکی فوجی اڈوں کو براہ راست نشانہ بناتے ہوئے خبردار کیا کہ جب تک یہ اڈے خطے سے ختم نہیں ہوتے، حملوں کا سلسلہ جاری رہے گا۔ یہ کوئی خالی دھمکی نہیں، بلکہ ایک پختہ فیصلہ ہے جو ایران کے دفاع اور عزت کی حفاظت کا اعلان ہے۔ دشمن کو یاد دلایا گیا کہ ایران کا ہدف کوئی عام شہری یا پڑوسی ملک نہیں، بلکہ صرف وہ فوجی تنصیبات ہیں جو جارحیت کا آلہ کار بنی ہوئی ہیں۔ نئے سپریم لیڈر نے قوم کی حمایت کو اپنی سب سے بڑی طاقت قرار دیا اور دعا کی کہ خدا انہیں قوم کی بہتر رہنمائی کی توفیق عطا فرمائے۔ ان کے الفاظ میں عاجزی اور عزم کا حسین امتزاج ہے جو ہر سننے والے کو متاثر کرتا ہے۔
اس دوران، انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنا باضابطہ اکاؤنٹ @Rahbarenghelab_ بنا لیا ہے، جو فارسی میں ہے اور اس سے ابتدائی پیغامات شیئر کیے جا رہے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس اکاؤنٹ سے صرف ایک ہی شخصیت کو فالو کیا جا رہا ہے، اور وہ ان کے والد اور سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای کا اکاؤنٹ ہے، جنہیں 28 فروری کو اسرائیلی حملے میں شہید کر دیا گیا تھا۔ یہ ایک جذباتی اور علامتی رشتہ ہے جو نئی قیادت کی جڑوں کو واضح کرتا ہے۔
@Rahbarenghelab_ pic.twitter.com/exdvqlx12i
— KHAMENEI.IR | فارسی (@Khamenei_fa) March 12, 2026







Discussion about this post