ایران نے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے اپنی سخت اور واضح شرائط سامنے رکھ دی ہیں، جو خطے کی سیاست اور بین الاقوامی تعلقات میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہیں۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اپنے ایک طاقتور بیان میں تین بنیادی شرائط کا اعلان کیا ہے، جو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے شروع کی گئی اس جنگ کو روکنے کا واحد قابل عمل راستہ قرار دیا گیا ہے۔ صدر پزشکیان نے ایکس پر لکھا کہ روس اور پاکستان کے رہنماؤں سے ہونے والی گفتگو میں انہوں نے خطے میں ایران کے امن کے پختہ عزم کو ایک بار پھر دہرایا، اور واضح کیا کہ یہ تنازع صرف اسی صورت ختم ہو سکتا ہے جب ایران کے جائز اور مسلم حقوق کو تسلیم کیا جائے، جنگ کے دوران ہونے والے نقصانات کا مکمل معاوضہ ادا کیا جائے، اور مستقبل میں کسی بھی جارحیت کے خلاف مضبوط اور پائیدار بین الاقوامی ضمانتیں فراہم کی جائیں۔انہوں نے زور دے کر کہا کہ یہ جنگ صیہونی رژیم اور امریکہ کی جانب سے شروع کی گئی ہے، اور خطے میں حقیقی امن قائم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ اس تنازع کے بنیادی اسباب کو تسلیم کیا جائے اور انصاف پر مبنی ایک جامع حل تلاش کیا جائے، جو ایران کی خودمختاری اور وقار کی حفاظت کرے۔ یہ بیان جنگ کے جاری رہنے کے اس مرحلے پر سامنے آیا ہے جب ایران اپنی دفاعی پوزیشن کو مضبوط کر رہا ہے، اور عالمی برادری میں ثالثی کی کوششیں تیز ہو رہی ہیں۔
Talking to leaders of Russia and Pakistan, I reaffirmed Iran’s commitment to peace in the region. The only way to end this war—ignited by the Zionist regime & US—is recognizing Iran’s legitimate rights, payment of reparations, and firm int’l guarantees against future aggression.
— Masoud Pezeshkian (@drpezeshkian) March 11, 2026
صدر پزشکیان کا یہ موقف نہ صرف ایران کی پالیسی کی عکاسی کرتا ہے بلکہ یہ ایک واضح پیغام ہے کہ تہران بغیر شرائط کے کسی بھی ہتھیار ڈالنے یا کمزوری دکھانے کو تیار نہیں۔ یہ تین شرائطحقوق کی تسلیم، معاوضہ کی ادائیگی، اور مستقبل کی جارحیت کے خلاف ضمانتیں. اب جنگ کے خاتمے کی راہ میں مرکزی محور بن چکی ہیں، اور دیکھنا یہ ہے کہ امریکہ اور اسرائیل ان مطالبات پر کیا ردعمل دیتے ہیں۔






Discussion about this post