راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی عدالت نے ایک تاریخی اور فیصلہ کن فیصلہ سناتے ہوئے ملک کی سلامتی اور قانون کی بالادستی کو مزید مضبوط کر دیا ہے۔ 9 مئی کے جی ایچ کیو حملہ کیس میں عدالت نے 47 اشتہاری ملزمان کو دس، دس سال قید کی سخت سزا سنائی ہے، جبکہ ہر ایک پر پانچ، پانچ لاکھ روپے کا جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے۔ یہ سزا نہ صرف عدالتی نظام کی تیزی اور عدل کی عکاسی کرتی ہے بلکہ یہ پیغام بھی دیتی ہے کہ ریاست کے خلاف کوئی بھی سازش برداشت نہیں کی جائے گی۔ عدالت کے جج امجد علی شاہ نے اپنے تحریری فیصلے میں واضح کیا کہ ملزمان کی جائیداد بھی ضبط کی جائے گی، تاکہ قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کو مکمل سبق ملے۔ سزا پانے والوں میں پی ٹی آئی کے اہم رہنما شامل ہیں جیسے عمر ایوب، شبلی فراز، زرتاج گل، مراد سعید، حماد اظہر، کنول شوذب، شیخ راشد شفیق اور دیگر، جو اس کیس میں ملوث تھے۔ یہ کیس رواں سال 8 جنوری کو شروع ہوا تھا جب 47 ملزمان کو اشتہاری قرار دے کر ان کا اشتہار جاری کیا گیا۔

عدالت نے انہیں سات دن کے اندر سرنڈر کرنے کا موقع دیا، مگر کوئی بھی پیش نہیں ہوا۔ اس کے بعد عدالت نے سرکاری وکیل (اسٹیٹ کونسل) مقرر کیے، چارج فریم کیا گیا، استغاثہ نے 19 گواہوں کے بیانات ریکارڈ کروائے، اور دفاع کی جانب سے جرح بھی کی گئی۔ ٹرائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے یہ شاندار فیصلہ سنایا، جو ریاست کی طاقت اور انصاف کی فتح کی زندہ مثال ہے۔







Discussion about this post