نیویارک ٹائمز کی گہری اور بے رحم تحقیقات نے ایک دل دہلا دینے والا انکشاف کیا ہے: ایران کے جنوبی شہر میناب میں 28 فروری کو لڑکیوں کے پرائمری اسکول شجرہ طیبہ پر ہونے والا تباہ کن حملہ امریکی فوج کی کارروائی کا حصہ تھا۔ یہ وہ لمحہ تھا جب جنگ کا آغاز ہوا، اور اس ایک حملے نے درجنوں معصوم بچوں سمیت کم از کم 175 جانیں چھین لیں , زیادہ تر چھوٹی بچیوں کی، جو کلاس رومز میں بیٹھی ہوئی تھیں۔ تحقیقات میں سیٹلائٹ تصاویر، تصدیق شدہ ویڈیوز، سوشل میڈیا پوسٹس اور امریکی حکام کے بیانات کا جائزہ لیا گیا ہے۔ یہ واضح ہوا کہ اسکول کی عمارت عین اس وقت نشانہ بنی جب امریکی فورسز نے قریب ہی واقع ایرانی انقلابی گارڈز کے بحری اڈے پر حملے کیے۔ عمارت پہلے اسی فوجی اڈے کا حصہ تھی، مگر 2016 سے اسے دیوار سے الگ کر کے اسکول بنا دیا گیا تھا . سیٹلائٹ تصاویر میں کھیل کے میدان اور اسکول کی نشانیاں بالکل واضح ہیں۔یہ حملہ غلطی سے ہوا یا دانستہ، ابھی حتمی طور پر طے نہیں ہوا، مگر ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ایک درست نشانہ والا حملہ تھا جو فوجی اڈے کے ساتھ مل کر ہوا۔

دوسری جانب، یونیسیف نے دلخراش اعداد و شمار جاری کیے ہیں: ایران کے خلاف جاری جنگ میں اب تک تقریباً 200 بچے جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ صرف سات دنوں میں مشرق وسطیٰ بھر میں 192 بچوں کی جانیں گئیں . ایران میں 181، لبنان میں 7، اسرائیل میں 3، اور کویت میں ایک معصوم بچہ۔ یہ اعداد نہیں، بلکہ بچوں کی چیخیں ہیں جو جنگ کی بے رحمی کو عیاں کرتی ہیں۔








Discussion about this post