امریکی صدر ٹرمپ کی قیادت میں ایران کے خلاف جاری جنگ نے مشرق وسطیٰ کو آگ اور دھوئیں کا گڑھا بنا دیا ہے، اور اب اس کا سب سے بڑا شکار امریکہ کے اپنے شہری بن رہے ہیں۔ امریکی محکمہ خارجہ نے ایک بے مثال الرٹ جاری کیا ہے: خطے میں پھنسے لاکھوں امریکی شہریوں کو فوری طور پر نکل جانے کا حکم دیا گیا ہے، مگر آسمان بند، پروازیں معطل، اور سفارتی مراکز خطرے میں یہ انخلا ایک زندہ خوابِ خرابہ بن چکا ہے۔ غیر ملکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق، مشرق وسطیٰ میں دو لاکھ سے زائد امریکی شہری موجود ہیں جن میں سے اب تک تقریباً اٹھارہ ہزار واپس امریکہ پہنچ چکے ہیں۔ امارات میں پچاس ہزار، قطر میں پندرہ ہزار، کویت میں تیس ہزار، اور سعودی عرب میں اسّی ہزار کے قریب امریکی مقیم ہیں، جو اب جنگ کی لپیٹ میں آ گئے ہیں۔ یہ اعداد محض شمار نہیں، بلکہ ہزاروں خاندانوں کی چیخیں ہیں جو ہوائی اڈوں پر، ہوٹلوں میں، اور سفارتی دروازوں پر انتظار کر رہے ہیں۔ امریکی حکومت نے ان ممالک میں رہنے والے شہریوں کو واضح ہدایت دی ہے کہ خطہ چھوڑ دیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ کمرشل پروازیں محدود اور خطرناک ہو چکی ہیں۔ فضائی حدود بند، ایرانی جوابی حملوں کی وجہ سے ہوائی اڈے تباہ یا غیر فعال , انخلا کا راستہ تنگ سے تنگ تر ہو رہا ہے۔

امریکی حکام چارٹر فلائٹس اور فوجی طیاروں کا بندوبست کر رہے ہیں، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور اردن سے فلائٹس چل رہی ہیں، مگر یہ کوششیں ابھی ابتدائی مراحل میں ہیں اور ہزاروں لوگ اب بھی پھنسے ہوئے ہیں۔ دوسری جانب، کویت میں امریکی سفارت خانے کی سرگرمیاں عارضی طور پر مکمل معطل کر دی گئی ہیں . ایرانی ڈرون حملوں کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا، جہاں سفارت خانے کے قریب دھماکے ہو چکے ہیں۔ یہ صرف ایک سفارت خانہ نہیں، بلکہ امریکہ کی علاقائی موجودگی کا ایک بڑا نشانہ ہے جو اب خطرے میں ہے۔ یہ جنگ اب صرف ایران اور امریکہ-اسرائیل کے درمیان نہیں رہی . یہ ایک علاقائی طوفان بن چکی ہے جو معصوم امریکی شہریوں کو بھی نگل رہی ہے۔







Discussion about this post