امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی آواز میں وہ دھماکہ خیز طاقت بھری ہے جو دنیا کو ہلا کر رکھ دیتی ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ امریکہ اس جنگ میں ایران سے کہیں زیادہ سنجیدہ اور پرعزم ہے اور سب سے پہلے ایران کی موجودہ شکل کو مکمل طور پر ختم کرنے کا عزم رکھتا ہے۔ وائٹ ہاؤس کی دیواروں میں گونجتی ان کی گفتگو نے سب کو چونکا دیا کہ اب کوئی چارہ نہیں تھا سوائے ایران پر حملہ کرنے کے۔ ایرانی بحریہ کو تباہی کے گڑھے میں دھکیل دیا گیا ہے۔ اس کی طاقت اب صرف تاریخ کے اوراق میں باقی رہ گئی۔ میزائل اور ڈرون کی صلاحیتوں کو بھی ایک ایک کر کے نیست و نابود کیا جا رہا ہے، ہر گھنٹے، ہر لمحہ ایران کی یہ طاقت کمزور سے کمزور تر ہوتی جا رہی ہے۔ ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ ایران کی فضائیہ اب محض ایک خواب ہے۔ نہ کوئی طیارہ اڑ سکتا ہے، نہ فضائی دفاعی نظام سانس لے سکتا ہے۔ تمام جنگی طیارے راکھ کا ڈھیر بن چکے ہیں۔ اب وہ یقین دلاتے ہیں کہ جو بھی کل ایران کی قیادت سنبھالے گا، وہ کبھی امریکہ یا اسرائیل کو دھمکی دینے کی جرات نہیں کرے گا۔ ایران نے مذاکرات کی آواز اٹھائی، ڈیل کی پیشکش کی مگر ٹرمپ نے کہا: اب بہت دیر ہو چکی ہے۔ خامنہ ای کا بیٹا؟ وہ ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے ایرانی پاسداران انقلاب کے کمانڈروں اور دنیا بھر میں پھیلے ایرانی سفارتکاروں کو براہ راست مخاطب کیا: اب وقت آ گیا ہے کہ تم موجودہ حکومت سے الگ ہو جاؤ۔ سفارتخانوں کو چھوڑو، پناہ مانگو، اور ایک نئے، بہتر ایران کی تعمیر میں امریکہ کا ہاتھ تھامو۔ اگر پاسداران کے کمانڈر عہدے چھوڑ دیں تو مکمل استثنیٰ ملے گا ورنہ موت یقینی ہے۔








Discussion about this post