پاکستان میں عید الفطر کی آمد نے ایک بار پھر تازہ کرنسی نوٹوں کی دوڑ کو شروع کر دیا ہے۔ وہ لمحہ جب ہر خاندان اپنی عیدی کو کرارے، بالکل نئے نوٹوں میں دینے کا خواب دیکھتا ہے، اور گلیوں میں خوشبو کی طرح یہ روایت پھیل جاتی ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے شہریوں کو ایک واضح اور پُرزور پیغام دیا ہے، بلیک مارکیٹ کے لالچی سوداگروں سے دور رہیں، جو اضافی قیمت پر نوٹ بیچ کر عوام کو لوٹتے ہیں صرف سرکاری اور معتبر ذرائع ہی استعمال کریں تاکہ آپ کی عیدی کی خوبصورتی برقرار رہے اور جیب بھی محفوظ۔۔ عید الفطر تقریباً 20 یا 21 مارچ 2026 کے قریب متوقع ہے، اس لیے ابھی سے تیاری شروع کر دیں، رمضان کے دوسرے ہفتے میں ہی اقدام کریں، کیونکہ محدود کوٹہ تیزی سے ختم ہو جاتا ہے اور دیر کرنے والے مایوس ہو کر مہنگے داموں نوٹ خریدنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

سب سے آسان اور مقبول طریقہ: 8877 ایس ایم ایس سروس
اپنے موبائل میں ایس ایم ایس کھولیں، اپنا 13 ہندسوں والا شناختی کارڈ نمبر لکھیں، اسپیس دیں اور مطلوبہ بینک برانچ کا کوڈ درج کریں، یہ پیغام 8877 پر بھیج دیں۔ چند لمحوں میں جوابی ایس ایم ایس آئے گا جس میں منفرد ٹرانزیکشن کوڈ اور برانچ کا پتہ درج ہوگا۔ اب بس اصل شناختی کارڈ اور اس کی کاپی لے کر برانچ پہنچیں، جہاں آپ کو عام طور پر 10، 20 اور 50 روپے کے ایک ایک خوبصورت پیکٹ مل جائیں گے۔ اگر 8877 پر رش زیادہ ہو تو اپنے بینک مینیجر سے رابطہ کریں، زیادہ تر کمرشل بینکوں کو محدود مقدار میں تازہ نوٹ ملتے ہیں جو اپنے اکاؤنٹ ہولڈرز کو ترجیح دیتے ہیں، اس لیے مارچ کے شروع میں برانچ کا دورہ کرنا سب سے دانشمندانہ قدم ثابت ہو سکتا ہے۔ بڑے شہروں جیسے کراچی، لاہور اور اسلام آباد میں اسٹیٹ بینک بینکنگ سروسز کارپوریشن (SBP BSC) کے دفاتر بھی دستیاب ہیں۔

یہاں پہلے آئیے پہلے پائیے کی بنیاد پر نوٹ تبدیل کیے جاتے ہیں، جہاں بڑا ذخیرہ ہوتا ہے اور موقع ملنے پر آپ کی عیدی کی چمک دوبالا ہو جاتی ہے۔ رمضان کے آخری عشرے میں اے ٹی ایم مشینوں میں بھی معیاری اور کرارے 500 اور 1000 روپے کے نوٹ ڈالے جاتے ہیں۔ یہ بڑی مالیت کے ہوتے ہیں مگر خاندان کے بزرگوں اور رشتہ داروں کو عیدی دینے کے لیے بالکل موزوں ثابت ہو سکتے ہیں۔







Discussion about this post