ایران کی پاسداران انقلاب نے ایک طوفانی اور ناقابل فراموش اعلان کر دیا ہے کہ اگر امریکا یا اس کے اتحادیوں نے خطے میں دباؤ مزید بڑھایا تو آبنائے ہرمز سے تیل کی ایک بھی بوند گزرنے نہیں دی جائے گی۔ یہ ایک ایسی دھمکی ہے جو عالمی توانائی کی رگوں کو کاٹنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ پاسداران نے واضح کر دیا کہ ایران کے پاس ابھی تک اپنی اصل طاقت میزائلوں اور ڈرونز کی ایک وسیع اور خوفناک صفکو مکمل طور پر ظاہر نہیں کیا گیا، اور اگر ضرورت پڑی تو یہ طاقت سمندر کو آگ کا گڑھا بنا دے گی۔ ادھر امریکی وزیر توانائی کرس رائٹ نے جواباً اعلان کیا ہے کہ امریکی بحریہ جلد ہی آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کو مکمل تحفظ فراہم کرے گی، تاکہ عالمی تجارت اور توانائی کی سپلائی زنجیر ٹوٹنے نہ پائے، یہ ایک براہ راست چیلنج ہے جو کشیدگی کو نئی بلندیوں تک لے جا سکتا ہے۔

امریکی صدر ٹرمپ کے اس بیان پر کہ ایران کو ایٹمی ہتھیار بنانے سے روکنے کے لیے حملہ ضروری تھا اور اگر دو ہفتے مزید گزر جاتے تو ایران ایٹمی طاقت بن چکا ہوتا، پاسداران نے سخت ترین لہجے میں جواب دیا، اسے براہ راست چیلنج قرار دیتے ہوئے کہ ایران اپنی خودمختاری اور دفاع کے لیے کسی بھی قیمت پر پیچھے نہیں ہٹے گا۔ اسی دوران کویت کی ایک بندرگاہ کے قریب ہونے والے دھماکے کے بعد ایک کارگو ٹینکر سے تیل کے سمندر میں رساؤ کی اطلاعات نے ماحول کو مزید سنگین کر دیا ہے، جبکہ عملہ محفوظ رہا مگر یہ واقعہ آبنائے ہرمز کی اہمیت کی ایک زندہ مثال بن گیا۔ ماہرین کی رائے ہے کہ آبنائے ہرمز عالمی تیل کی تقریباً ایک پانچویں مقدار کی گزرگاہ ہے۔اس کی بندش نہ صرف تیل کی قیمتیں آسمان چھو لے گی بلکہ عالمی معیشت کو ایک ایسی جھٹکا دے گی جو برسوں تک محسوس کیا جائے گا، اور یہ بحران اب ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے جہاں ایک غلط قدم پورے خطے کو آگ کی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔








Discussion about this post