پاکستان کی سرزمین پر اب امریکی سفارتی مشن بھی شدید دباؤ میں آ گیا ہے، جہاں امریکی سفارت خانے نے سیکیورٹی کے سنگین خدشات کے پیش نظر ایک فیصلہ کن قدم اٹھایا ہے۔ غیر ہنگامی سفارتی عملے اور ان کے اہل خانہ کو فوری طور پر پاکستان چھوڑنے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے، خاص طور پر لاہور اور کراچی میں قائم امریکی قونصل خانوں کے غیر ضروری ملازمین کو۔ اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے کی موجودہ حیثیت میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی، مگر لاہور اور کراچی کے قونصل خانوں سے یہ عملہ اب واپس بلایا جا رہا ہے۔

امریکی مشن کا واضح اعلان ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے نتیجے میں خطے میں ڈرون اور میزائل حملوں کے سنگین خطرات موجود ہیں، جس کی وجہ سے یہ احتیاطی تدابیر ناگزیر ہو گئیں۔ یہ فیصلہ 3 مارچ 2026 کو امریکی محکمہ خارجہ کی طرف سے جاری کیا گیا، جو ایران کے ساتھ جاری تنازعے کی شدت کو مزید عیاں کرتا ہے۔ اس کے علاوہ، کراچی میں امریکی قونصل خانے پر مظاہرین کے دھاوے کے دوران امریکی حکام کے مطابق میرینز نے فائرنگ کی، جس سے صورتحال مزید گرم ہو گئی۔ مظاہرین نے قونصل خانے کی بیرونی دیوار توڑنے کی کوشش کی، جس کے نتیجے میں متعدد ہلاکتیں اور زخمی ہوئے۔







Discussion about this post