مشرق وسطیٰ کی آگ اب سعودی عرب اور عمان کی سرزمینوں تک پہنچ چکی ہے، جہاں امریکی محکمہ خارجہ نے ایک سخت اور فوری فیصلہ کرتے ہوئے غیر ضروری سرکاری ملازمین اور ان کے اہل خانہ کو سعودی عرب اور سلطنت عمان سے فوری طور پر نکلنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔ یہ ہدایت مشرق وسطیٰ میں تیزی سے بگڑتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال اور سنگین خطرات کے پیش نظر دی گئی ہے، جہاں امریکی سفارتی دفاتر اور اہلکار اب براہ راست حملوں کی زد میں آ چکے ہیں۔ امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ خطے میں سیکیورٹی کی صورتحال تیزی سے خراب ہو رہی ہے، جس کی وجہ سے غیر ضروری وفاقی عملے اور ان کے خاندانوں کے لیے وہاں رہنا انتہائی خطرناک ہو گیا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے پریس سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ جنگ کے آغاز سے اب تک تقریباً 9 ہزار امریکی مشرق وسطیٰ سے نکل چکے ہیں، جبکہ تقریباً 1600 امریکیوں نے روانگی کے لیے مدد کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ائیر اسپیس کی بندش اور دیگر چیلنجز کے باوجود چارٹر فلائٹس، ملٹری آپشنز اور کمرشل پروازوں کو وسعت دے کر امریکی شہریوں کو نکالنے کا کام تیز کیا جا رہا ہے۔

روبیو نے واضح کیا کہ ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت ہرگز نہیں دی جائے گی، اور آئندہ چند دنوں میں ایران پر مزید حملے کیے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ سفارتی دفاتر براہ راست حملوں کا سامنا کر رہے ہیں، اور یہ اقدامات امریکی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے ناگزیر ہیں۔ دوسری طرف، اسرائیلی میڈیا نے ایک چونکا دینے والی خبر دی ہے کہ شہید آیت علی خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو ایران کا نیا سپریم لیڈر منتخب کر لیا گیا ہے۔ یہ انتخاب مجلس خبرگان کے اندرونی عمل کے نتیجے میں سامنے آیا ہے، مگر ایرانی سرکاری ذرائع کی طرف سے ابھی تک کوئی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی۔ یہ تمام پیش رفت مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کی شدت کو مزید واضح کر رہی ہے، جہاں ہر لمحہ نئی تبدیلیاں اور خطرات جنم لے رہے ہیں، اور دنیا کی نگاہیں اس پر ٹکی ہوئی ہیں کہ آگے کیا ہونے والا ہے۔








Discussion about this post