برطانیہ کی حکومت نے غیر معمولی قدم اٹھاتے ہوئے چار ممالک کے شہریوں پر طلبہ ویزوں کی مکمل پابندی لگا دی ہے۔ افغانستان، سوڈان، کیمرون اور میانمار کے باشندوں کے لیے اب برطانیہ میں تعلیم حاصل کرنے کا راستہ بند ہو چکا ہے، جبکہ افغان شہریوں کے ہنر مند ورک ویزے بھی ختم کر دیے گئے ہیں۔ برطانوی ہوم سیکریٹری شبانہ محمود نے اسے "ایمرجنسی بریک” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فیصلہ ویزا سسٹم کے غلط استعمال اور پناہ کی درخواستوں میں غیر معمولی اضافے کو روکنے کے لیے ناگزیر تھا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق، ان چار ممالک سے آنے والے طلبہ قانونی ویزوں کے ذریعے برطانیہ پہنچ کر پناہ مانگنے لگے تھے، جس سے 2021 سے 2025 تک پناہ کی درخواستیں پانچ گنا سے زیادہ بڑھ گئیں – افغان طلبہ میں تو 95 فیصد تک کا تناسب ہے۔ یہ اقدام پہلی بار اتنی وسیع پیمانے پر اٹھایا گیا ہے، جو برطانیہ کی سختی کی نئی مثال ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ برطانیہ ہمیشہ جنگ اور ظلم سے بھاگنے والوں کو پناہ دے گا، مگر اس کی مہربانی کا غلط فائدہ اٹھانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

دوسری طرف، پاکستانی شہریوں کے لیے خوشخبری ہے برطانوی ہائی کمشنر نے اعلان کیا ہے کہ اب پاکستانی سیاح، خاندان سے ملنے والے اور کاروباری افراد eVisa کا استعمال کر سکتے ہیں۔ ویزا کی منظوری ای میل کے ذریعے ملے گی، پاسپورٹ میں سٹیکر لگانے کی ضرورت ختم ہو گئی ہے۔ یہ قدم ویزا عمل کو آسان، محفوظ اور تیز تر بناتا ہے، جو پاکستانیوں کے لیے ایک بڑی سہولت ہے۔ یہ تبدیلیاں برطانیہ کی سرحدوں پر مکمل کنٹرول بحال کرنے کی کوشش کا حصہ ہیں، جہاں وزیر داخلہ نے وعدہ کیا ہے کہ اب ویزا سسٹم کا غلط استعمال برداشت نہیں کیا جائے گا۔ دنیا کی نگاہیں اس پر ہیں کہ یہ پابندیاں آئندہ کیا اثرات مرتب کریں گی۔







Discussion about this post