وزیراعظم شہباز شریف نے مشرق وسطیٰ کی تیزی سے بگڑتی ہوئی صورتحال اور ایران-اسرائیل جنگ کے سنگین اثرات کے پیش نظر ایک انتہائی اہم اور دور اندیش فیصلہ کر لیا ہے، جو پاکستان کی قومی سلامتی اور علاقائی استحکام کے لیے سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے اعلان کیا ہے کہ پارلیمنٹ کی تمام جماعتوں, حکومت اور حزب اختلاف سمیت کو مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی، ایران پر حملوں کے پس منظر اور اس کے پاکستان پر ممکنہ اثرات کے حوالے سے ایک مکمل ان کیمرہ بریفنگ دی جائے گی۔ یہ بریفنگ کل دن 11 بجے قومی اسمبلی اور سینیٹ کے مشترکہ اجلاس میں ہوگی، جہاں پارلیمانی لیڈرز، اپوزیشن رہنما اور تمام سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کو خطے کی تازہ ترین سکیورٹی صورتحال، پاکستان کا واضح مؤقف اور ممکنہ چیلنجز سے نمٹنے کی حکمت عملی سے تفصیلی آگاہ کیا جائے گا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے فوری طور پر سینیٹ اور قومی اسمبلی کے پارلیمانی لیڈرز اور حزب اختلاف کے سربراہان کو مدعو کر لیا ہے۔

وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا تمام متعلقہ رہنماؤں سے رابطہ کر کے انہیں بریفنگ میں شرکت کی دعوت دیں گے تاکہ اس حساس معاملے پر قومی سطح پر مکمل اتفاق رائے اور ہم آہنگی قائم کی جا سکے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق، یہ اقدام محض ایک رسمی بریفنگ نہیں بلکہ ایک اسٹریٹجک ضرورت ہے۔ اس کا بنیادی مقصد سیاسی قیادت کو اعتماد میں لینا، قومی مفادات کی حفاظت کے لیے ایک متحدہ موقف تشکیل دینا اور خطے میں بدلتی ہوئی صورتحال کے تناظر میں پاکستان کی پالیسی کو مضبوط بنیاد فراہم کرنا ہے۔ وزیر دفاع خواجہ آصف کے حالیہ بیان کا حوالہ دیتے ہوئے ذرائع نے واضح کیا کہ ایران پر حملوں کا ایک بڑا مقصد اسرائیلی اثر و رسوخ کو پاکستانی سرحدوں تک پھیلانا ہے، جسے روکنے کے لیے پاکستان کو ہوشیار اور متحد رہنا ہوگا۔

اس کے علاوہ، وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی ولی عہد، متحدہ عرب امارات کے صدر اور قطر کے امیر سے براہ راست رابطہ کیا ہے تاکہ خطے کی کشیدگی کو کم کرنے اور پاکستان کے مفادات کی حفاظت کے لیے مشترکہ حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔ یہ فیصلہ نہ صرف پاکستان کی خارجہ پالیسی کی پختگی کو ظاہر کرتا ہے بلکہ یہ بھی ثابت کرتا ہے کہ موجودہ حکومت حساس ترین لمحات میں بھی قومی اتحاد اور سیاسی اتفاق رائے کو اولین ترجیح دیتی ہے۔ کل کی ان کیمرہ بریفنگ پاکستان کی قومی سلامتی کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگی، جہاں تمام سیاسی قوتیں ایک ہی صف میں کھڑی ہو کر ملک کے دفاع اور علاقائی استحکام کے لیے اپنا کردار ادا کریں گی۔







Discussion about this post