امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں پر ایک طوفانی اور جوشیلا بیان دیتے ہوئے دنیا کو حیران کر دیا ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ امریکہ کا ایک ہی واضح اور اٹل مشن ہے: ایران کی بیلسٹک میزائل طاقت کو مکمل طور پر ختم کرنا تاکہ یہ خطے اور پوری دنیا کے لیے کوئی خطرہ نہ رہے۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے روبیو نے سنسنی خیز انکشاف کیا کہ ایران نے خلیجی ممالک میں نہ صرف فوجی اہداف بلکہ عام شہریوں کی جائیدادوں پر بھی بے رحمانہ حملے کیے۔ ہوٹلوں، رہائشی عمارتوں اور پرامن مقامات کو نشانہ بنایا گیا جبکہ ایک سو سے زائد طاقتور میزائل برسانے گئے۔ ان کے ابتدائی حملوں میں بڑے پیمانے پر انسانی جانوں کا ضیاع ہوا جو دل دہلا دینے والا تھا۔ روبیو کا کہنا تھا کہ اگر امریکہ نے فوری اور پیشگی کارروائی نہ کی ہوتی تو تباہی کا یہ سلسلہ کہیں زیادہ خوفناک اور وسیع ہوتا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوئی راہ نہیں دی جائے گی کیونکہ اگر اس کے پاس میزائلوں کے ساتھ ایٹمی طاقت آ گئی تو وہ پوری دنیا کو یرغمال بنا سکتا ہے۔

انہوں نے مزید واضح کیا کہ ایران کے خلاف یہ فوجی آپریشن تیزی سے کامیابی کی طرف بڑھ رہا ہے اور ہر قدم بین الاقوامی قوانین کی مکمل پاسداری میں اٹھایا جا رہا ہے۔ کانگریس کو ہر لمحے اعتماد میں لیا جا رہا ہے جبکہ اہم گینگ آف ایٹ گروپ کو مسلسل تفصیلی بریفنگز دی جا رہی ہیں۔ ایک اور طاقتور بیان میں روبیو نے کہا کہ موجودہ ایرانی رجیم عوام کی حقیقی آواز نہیں بلکہ ایک مسلط شدہ نظام ہے۔ امریکہ ایک ایسے ایران سے محبت کرتا ہے جو آزاد ہو، جہاں موجودہ حکومت کی زنجیریں نہ ہوں۔ انہوں نے امید کا روشن چراغ جلاتے ہوئے کہا کہ ایرانی عوام خود اپنی اس حکومت کا تختہ الٹ دیں گے۔ اگر انہیں امریکہ کی کوئی مدد درکار ہوئی تو واشنگٹن کے دروازے ہمیشہ ان کے لیے کھلے ہیں۔







Discussion about this post