امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جاری فوجی مہم پر ایک ایسا طوفانی اور دہلا دینے والا بیان دیا ہے جو پوری دنیا کو ہلا کر رکھ گیا۔ انہوں نے فخر بھری آواز میں دعویٰ کیا کہ امریکا نے ایران کی اٹھالیس اہم ترین سیاسی اور عسکری شخصیات کو ہلاک کر کے ایرانی قیادت کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا ہے۔ اپنے خطاب میں ٹرمپ نے ایرانی پاسداران انقلاب کو سیدھا چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ اب ہتھیار ڈال دو کیونکہ امریکا اپنے ہر ہدف کو حاصل کرنے تک یہ جنگ جاری رکھے گا اور کوئی رکاوٹ برداشت نہیں کرے گا۔ انہوں نے مزید انکشاف کیا کہ ایرانی فوجی اڈوں، جدید ترین فضائی دفاعی نظاموں اور نو بڑے بحری جہازوں کو نشانہ بنا کر مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا ہے ۔ ٹرمپ کے مطابق ایران کی ابھرتی ہوئی نئی قیادت اب شدید خواہش مند ہے کہ مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر امن کی راہ نکالے۔دوسری جانب چین نے امریکا اور اسرائیل کے ان حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے فوری طور پر جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے تاکہ خطے میں امن و استحکام بحال ہو سکے۔

امریکی صدر نے ایران کو ایک عظیم اور طاقتور ملک قرار دیتے ہوئے ایک ویژن پیش کیا کہ جنگ کے بعد وہاں جمہوریت کی روشن صبح طلوع ہو گی اور لاتعداد مثبت تبدیلیاں اس سرزمین کو نئی جلا بخش دیں گی۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ سعودی عرب، بحرین، متحدہ عرب امارات، قطر اور اردن کی قیادت سے ان کی اہم ترین بات چیت ہو چکی ہے اور سب ایک ہی صفحے پر ہیں۔ ٹرمپ نے پوری دنیا کو یقین دلایا کہ وہ کسی بات کی فکر میں نہیں کیونکہ سب کچھ ان کے منصوبے کے عین مطابق بالکل ٹھیک چل رہا ہے۔ تاہم انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ ان کارروائیوں میں تین امریکی فوجیوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے۔







Discussion about this post