پاکستانی سوشل میڈیا کے بہادر جنگجوؤں نے ایک بار پھر اپنی حقیقت پسندی اور بیداری کا شاندار مظاہرہ کرتے ہوئے برطانوی نشریاتی ادارے اسکائی نیوز کی پاکستان مخالف جھوٹی اور گمراہ کن خبر کو محض چند گھنٹوں میں بے نقاب کر دیا، جس سے ادارے کو اپنی پوسٹ فوری طور پر ڈیلیٹ کرنا پڑی۔
افغان نژاد صحافی @SkyYaldaHakim نے پاکستان پر ‘افغانستان کے فضائی حملہ’ کی جعلی خبر دی۔ تنقید ہوئی تو ڈیلیٹ کر دی
بات یہاں ختم نہیں ہوئی، جس برطانوی نیوز چینل سے وابستہ ہے، اس اسکائی نیوز @SkyNews نے بھی ‘ایئر اسٹرائیک’ کی خبر دی اور پھر ڈیلیٹ کرنا پڑ گئی۔
ایک جیسی جعلی خبر ساتھ… pic.twitter.com/RtOCPu1R8r— Shahid Abbasi (@ShahidabbasiPk) February 26, 2026
اسکائی نیوز نے اپنے آفیشل اکاؤنٹ پر ایکس پر دعویٰ کیا تھا کہ افغانستان کی فضائیہ نے پاکستان کے خلاف جوابی حملے کیے ہیں، مگر پاکستانی صارفین نے طوفانی ردعمل دیتے ہوئے حقائق سامنے لائے کہ افغانستان کے پاس اس وقت کوئی فعال یا باقاعدہ فضائیہ موجود ہی نہیں ہے۔ ہزاروں صارفین نے اس دعوے کو سراسر جھوٹ اور پروپیگنڈہ قرار دیتے ہوئے شدید تنقید کی، جس کے نتیجے میں ادارہ مجبور ہوا کہ وہ پوسٹ ہٹا دے۔ یہ واقعہ پاکستانی عوام کی ڈیجیٹل طاقت اور فوری فیکٹ چیکنگ کی ایک زندہ مثال ہے۔
Please apologise for being an apologist of terrorists. Deleting the fake news tweet is not enough @SkyNews pic.twitter.com/bw99dqRs8s
— Murtaza Ali Shah (@MurtazaViews) February 26, 2026
وفاقی وزیرِ اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے بھی اس موقع پر سخت بیان دیتے ہوئے کہا کہ افغان طالبان رجیم نے آپریشن غضب للحق کے تحت پاکستانی افواج کی مربوط اور تباہ کن کارروائیوں کے بعد شکست سے بچنے کے لیے سوشل میڈیا پر فیک نیوز اور جھوٹے بیانیے کا سہارا لیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بین الاقوامی چینل کو بھی اس جھوٹ کو پھیلانے کے بعد پوسٹ ڈیلیٹ کرنا پڑی، جو پاکستان مخالف پروپیگنڈے کی ناکامی کا ثبوت ہے۔ یہ کوئی پہلا موقع نہیں جب اسکائی نیوز پاکستان اور اس کی مسلح افواج کے خلاف منفی بیانیہ پھیلانے پر تنقید کی زد میں آیا ہو۔ چینل کی اینکر یلدہ حکیم پر بھی ماضی میں پاکستان مخالف رپورٹنگ کے الزامات لگتے رہے ہیں، جس سے اب اس کے صحافتی معیار، جانچ پڑتال کے عمل اور ذمہ داری پر سنگین سوالات اٹھ رہے ہیں۔ دریں اثنا، آپریشن غضب للحق کی کامیابی جاری ہے، جہاں پاک فضائیہ اور آرمی کی مؤثر کارروائیوں میں افغان طالبان کے 133 کارندے ہلاک اور 200 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔ یہ آپریشن پاکستان کی خودمختاری، سرحدی سلامتی اور عوام کے تحفظ کا ایک فیصلہ کن جواب ہے، جو دشمن کو واضح پیغام دے رہا ہے کہ جارحیت کا منہ توڑ جواب ملے گا۔







Discussion about this post