اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی جھڑپوں کی تیزی سے بڑھتی ہوئی کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے، جو خطے کی استحکام کے لیے سنگین خطرہ بن چکی ہے۔ ان کے ترجمان اسٹفین دوجارک نے جاری بیان میں کہا ہے کہ سیکریٹری جنرل صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور دونوں ممالک سے بین الاقوامی قانون کی، بالخصوص بین الاقوامی انسانی قانون کی مکمل پاسداری کا مطالبہ کرتے ہیں۔

بیان میں زور دیا گیا ہے کہ جاری کشیدگی کے دوران شہریوں کی حفاظت کو اولین ترجیح دی جائے، تاکہ مزید انسانی جانوں کا ضیاع روکا جا سکے۔ اقوام متحدہ نے دونوں فریقین سے تحمل، ذمہ داری اور فوری ڈی ایسکلیشن کی اپیل کی ہے، جبکہ سفارتی راستوں سے اختلافات حل کرنے پر زور دیا ہے۔
افغان طالبان نے اعلانیہ پاکستان پر حملہ کردیا ہے،پاکستان کی جانب سے بھرپور جواب دیا جارہا ہے،افغان طالبان کا یونٹ 201 خالد بن ولید شدید نقصان اٹھارہا ہے،پاک فوج نے کئی افغان چوکیاں تباہ کردی ہیں pic.twitter.com/Id8VbgBPVO
— Ali Raza Shaaf (@AliRazaShaaf) February 26, 2026
حالیہ دنوں میں پاک افغان سرحد پر اضافہ دیکھا گیا ہے، جس نے عالمی برادری کی توجہ مبذول کر لی ہے۔ اس تناظر میں ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ثالثی کی پیشکش کرتے ہوئے پاکستان اور افغانستان کو بات چیت کے ذریعے مسائل حل کرنے کی تلقین کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماہ رمضان ضبط نفس، خودداری اور عالم اسلام میں یکجہتی کا مقدس مہینہ ہے، اس لیے دونوں ممالک کو اچھے ہمسایہ پن کے اصولوں پر عمل کرتے ہوئے اختلافات کو سفارتی سطح پر ختم کرنا چاہیے۔ ایران نے دونوں ممالک کے درمیان مکالمے کو فروغ دینے اور باہمی تعاون بڑھانے کے لیے ہر ممکن مدد کی پیشکش کی ہے۔ دوسری جانب، افغان طالبان کی جانب سے بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاک فوج کا آپریشن غضب للحق طوفانی شدت سے جاری ہے، جو پاکستان کی خودمختاری اور سرحدی سلامتی کے تحفظ کا ایک فیصلہ کن مظہر ہے۔
افغان طالبان رجیم کی جانب سے پاکستان افغانستان سرحد پر بلا اشتعال فائرنگ کی کاروائیوں کا بھرپور و مؤثر جواب دیا جا رہا ہے اور جاتا رہے گا.
افغان طالبان رجیم اور بھارتی سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے جھوٹا و بے بنیاد پرپیگینڈا کیا جارہا ہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں.
خوش فہمیوں پر…
— Attaullah Tarar (@TararAttaullah) February 26, 2026
سیکیورٹی ذرائع اور وزیر اطلاعات کی جانب سے جاری تازہ ترین معلومات کے مطابق، اس آپریشن میں افغان طالبان رجیم کے 133 کارندے ہلاک اور 200 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ مزید ہلاکتوں کا امکان ہے۔ پاک فوج نے کابل، پکتیا اور قندھار سمیت اہم علاقوں میں دشمن کے دفاعی اہداف کو مؤثر حملوں سے نشانہ بنایا ہے، جس میں دو کور ہیڈ کوارٹرز کو مکمل تباہ کر دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ تین بریگیڈ ہیڈ کوارٹرز، تین بٹالین ہیڈ کوارٹرز، دو سیکٹر ہیڈ کوارٹرز، دو ایمونیشن ڈپو، ایک لاجسٹکس بیس، اور 80 سے زائد ٹینک، توپ خانہ، آرٹلری گنز اور بکتر بند گاڑیاں راکھ کا ڈھیر بنا دی گئی ہیں۔
افغان طالبان کی جانب سے خیبر پختونخوا میں سرحدی حدود کے مختلف مقامات پر اشتعال انگیز کارروائیاں کی گئیں، جن کے جواب میں سیکیورٹی فورسز نے بھرپور اور منہ توڑ کارروائی کی۔ خیبر پختونخوا کے چترال، خیبر، مہمند، کرم اور باجوڑ سیکٹرز میں دشمن کی پیش قدمی کو ناکام بناتے ہوئے اسے بھاری… pic.twitter.com/l2Dqzf8KbK
— Dr. Tariq Fazal Ch. (@DrTariqFazal) February 26, 2026
افغان طالبان کی 27 پوسٹیں تباہ اور 9 پر قبضہ کر کے پاکستانی پرچم لہرایا گیا ہے، جو وطن کے محافظوں کی بہادری اور عزم کی زندہ مثال ہے۔ یہ صورتحال خطے کے امن کے لیے ایک سنگین چیلنج ہے، جہاں پاکستان کی مسلح افواج نے واضح پیغام دیا ہے کہ کسی بھی جارحیت کا جواب فوری، شدید اور ناقابل فراموش ہو گا.







Discussion about this post