انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت نے ایک سنگین اور دل دہلا دینے والے قتل کے مقدمے میں فیصلہ کن قدم اٹھاتے ہوئے مرکزی ملزم ارمغان اور ملزم شیراز پر فرد جرم عائد کر دی۔ یہ وہ لمحہ ہے جب قانون کی تیز تلوار نے خاموشی توڑ دی اور انصاف کی راہ پر ایک اور سنگ میل لگ گیا۔ کراچی سینٹرل جیل کے انسداد دہشتگردی کمپلیکس میں خصوصی عدالت نمبر ۱۵ کے روبرو مصطفی عامر قتل کیس کی سماعت ہوئی، جہاں جیل حکام نے ملزم ارمغان اور شیراز کو عدالت کے سامنے پیش کیا—دونوں ملزمان کی آنکھوں میں شاید خوف تھا، مگر قانون کی آنکھیں اب بھی بے خوف اور بیدار تھیں۔عدالت نے دونوں ملزمان پر فرد جرم عائد کی، مگر جب انہوں نے صحت جرم سے انکار کر دیا تو عدالت نے فوری طور پر گواہوں کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ۱۲ مارچ کو عدالت میں طلب کر لیا۔ اب گواہوں کی زبانیں ہی وہ آئینہ بنیں گی جو حقیقت کی تصویر واضح کریں گی۔ استغاثہ کے مطابق یہ قتل انتہائی وحشیانہ تھا۔ مصطفی عامر کو گزشتہ سال قتل کر کے ان کی لاش کو بلوچستان لے جا کر جلا دیا گیا، گویا قاتل چاہتے تھے کہ ثبوت راکھ میں دفن ہو جائیں، مگر قانون کی روشنی اتنی تیز ہے کہ راکھ بھی بول اٹھتی ہے۔ یہ مقدمہ نہ صرف ایک فرد کے قتل کی داستان ہے بلکہ یہ ایک خاندان کی تباہی، ایک معاشرے کی بے چینی اور ریاست کی ذمہ داری کا امتحان بھی ہے۔








Discussion about this post