پاکستان کی سیاسی فضا میں ایک طوفانی بیان گونج اٹھا ہے، جہاں وزیر دفاع خواجہ آصف نے سوشل میڈیا کے ذریعے پاکستان تحریک انصاف اور خیبرپختونخوا کی حکومت پر ایسے تیر چلائے جو دل کی گہرائیوں تک اترتے ہیں۔ ان کی آواز میں غم و غصہ کی لہریں تھیں جب انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کی حکومت بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے لیے ایک خصوصی فورس بنانے کی تیاری میں ہے، مگر دہشت گردوں کے خلاف ایک لفظ بھی ادا کرنے سے گریزاں ہے، یہ کیسی ترجیحات ہیں جو وطن کی حفاظت کو پس پشت ڈال دیتی ہیں؟ شہدا کے احترام کی بات کرتے ہوئے انہوں نے الزام لگایا کہ پی ٹی آئی ان جنازوں سے دور بھاگتی ہے جہاں روزانہ پولیس کے بہادر اہلکار اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر رہے ہیں، گویا قربانیوں کی یہ داستان ان کی آنکھوں سے اوجھل ہے۔ خواجہ آصف کی زبان میں تلخی کی تیز دھار تھی جب انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی ترجیحات کا مرکز صرف اور صرف بانی پی ٹی آئی ہیں، اور صوبے کے جلتے مسائل کو ہوا میں اڑا دیا جا رہا ہے, یہ تو وزارت اعلیٰ بچاؤ کی مہم ہے، جہاں صوبہ کی خوشحالی کو بھاڑ میں جھونک دیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کے لیے مادر وطن کی سلامتی کی کوئی قیمت نہیں، یہ کیسی جماعت ہے جس کے اندرونی خلفشار ہر آنکھ کے سامنے ہیں، جہاں مختلف گروپوں میں ہزاروں اختلافات کی آگ بھڑک رہی ہے، مگر ایک بات پر سب متفق ہیں کہ بانی پی ٹی آئی جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہی رہیں۔








Discussion about this post