صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے دوسرے دورِ صدارت کے پہلے اسٹیٹ آف دی یونین خطاب میں ایک طویل اور پرجوش تقریر کی، جس میں انہوں نے اپنی حکومت کی کامیابیوں کو جوش و خروش سے بیان کیا اور ملک کی موجودہ صورتحال کو ایک سنہری دور قرار دیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ٹیرف پالیسی کے ذریعے انہوں نے کئی جنگیں روکیں، جن میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ممکنہ نیوکلیئر جنگ بھی شامل ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ پاکستان کے وزیراعظم نے تسلیم کیا کہ ان کی مداخلت سے 35 ملین لوگوں کی جانیں بچائی گئیں۔ ٹیرف کے باوجود مختلف ممالک امریکا کے ساتھ تجارتی معاہدوں کو برقرار رکھنے کے خواہشمند ہیں، جو اس پالیسی کی طاقت کو ظاہر کرتا ہے۔ ایران کے حوالے سے صدر ٹرمپ نے سخت انتباہ دیتے ہوئے کہا کہ ایران ایسے میزائل تیار کر رہا ہے جو جلد ہی امریکا تک پہنچ سکتے ہیں۔ وہ ایران کے ساتھ ڈیل کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن تہران نے ابھی تک یہ یقین دہانی نہیں دی کہ وہ جوہری ہتھیار نہیں بنائے گا۔ انہوں نے گزشتہ برس ایران کی جوہری تنصیبات پر امریکی حملوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس سے ملک کا جوہری پروگرام مکمل طور پر تباہ ہو گیا تھا۔ جنرل قاسم سلیمانی کو قتل کرنے کا بھی ذکر کیا، جس کا بہت بڑا اثر پڑا۔ ایران میں مظاہرین کی پھانسیاں روکنے کا بھی کریڈٹ لیا اور کہا کہ ان کی ترجیح سفارتکاری سے مسئلہ حل کرنا ہے، لیکن امن طاقت سے قائم کیا جائے گا۔ سرحدی سیکیورٹی پر فخر کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ امریکی تاریخ کی سب سے محفوظ سرحد ہے، گزشتہ 9 ماہ میں کوئی غیر قانونی تارک وطن داخل نہیں ہو سکا۔ غیر قانونی مہاجرین کو ملک بدر کیا جا رہا ہے، کیونکہ حکومت انہیں امریکا میں قیام کی اجازت نہیں دے گی۔

معیشت کے میدان میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ افراط زر میں نمایاں کمی آئی، انڈوں کی قیمتوں میں 60 فیصد کمی ہوئی، اور گزشتہ 12 ماہ میں 18 کھرب ڈالر کی سرمایہ کاری کے وعدے حاصل ہوئے۔ امریکا آج پہلے سے زیادہ خوشحال اور مضبوط ہے، صرف ایک سال میں بڑی تبدیلیاں ممکن ہوئیں۔ سابق صدر جو بائیڈن کے دور کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ تب ملک تباہی کے قریب تھا، اب دنیا کا سب سے پسندیدہ ملک بن چکا ہے۔ ٹیکس میں کمی کے مطالبے کو ریپبلکنز نے منظور کیا، جبکہ ڈیموکریٹس نے مخالفت کی کیونکہ وہ ٹیکس بڑھانا چاہتے تھے۔ ٹیرف کے خلاف سپریم کورٹ کے فیصلے پر سخت تنقید کی۔ تقریر کے دوران ڈیموکریٹک ارکان آل گرین اور الہان عمر نے احتجاج کیا اور بینر لہرانے کی کوشش کی، جس پر انہیں کانگریس کی عمارت سے باہر نکال دیا گیا۔ یہ خطاب تقریباً ایک گھنٹہ 47 منٹ طویل تھا، جو امریکی تاریخ کا سب سے لمبا اسٹیٹ آف دی یونین خطاب ہے، جس میں ٹرمپ نے اپنی کامیابیوں کو ایک "ٹران اراؤنڈ فار دی ایجز” قرار دیا اور امریکا کو دوبارہ عظیم بنانے کا عزم دہرایا۔








Discussion about this post