کوہاٹ کے دل دہلا دینے والے واقعے میں ایک اہم اور امید افزا پیش رفت سامنے آئی ہے، جس سے انصاف کی راہ روشن ہوتی نظر آ رہی ہے۔ لیڈی ڈاکٹر مہوش حسنین کے قتل کے کیس میں پولیس نے مرکزی ملزمان کی شناخت کر لی ہے, یہ وہ لمحہ ہے جب تاریکی میں روشنی کی پہلی کرن چمکتی ہے۔ ڈی پی او کوہاٹ شہباز الہٰی نے خود اس پیش رفت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ شناخت کے فوراً بعد مختلف مقامات پر چھاپے مارے گئے ہیں، شہر کے داخلی اور خارجی راستوں پر سخت چیکنگ جاری ہے، اور ملزمان کی گرفتاری جلد متوقع ہے۔ یہ وہ ڈاکٹر مہوش تھیں جو ڈی ایچ کیو اسپتال میں ڈیوٹی کے بعد رکشے میں گھر جا رہی تھیں کہ کے ڈی اے ڈبل روڈ پر نامعلوم حملہ آوروں نے بے دردی سے فائرنگ کر دی, پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق انہیں 8 گولیاں لگیں، اور وہ موقع پر ہی شہید ہو گئیں۔ واقعہ کی جڑ ایک تلخ جھگڑے میں ہے: اسپتال میں ایک مریضہ کے مرد تیمار دار کو ڈاکٹر مہوش نے لیڈی وارڈ سے باہر جانے کا کہا تھا، جس سے اس شخص میں غصہ بھڑک اٹھا، اس تلخی نے آخر کار اس سانحے کی شکل اختیار کر لی۔

ڈی پی او نے پختہ یقین دہانی کرائی ہے کہ مقتولہ کے اہلِ خانہ، جن میں ان کے تین بیٹے، ایک بیٹی اور شوہر شامل ہیں کو ہر ممکن انصاف دیا جائے گا، اور کیس کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔ اس دوران ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کا احتجاج تیسرے روز بھی جاری ہے، جس کی وجہ سے سرکاری ہسپتالوں میں الیکٹو سروسز معطل ہیں، نجی کلینکس بند ہیں، اور طبی برادری شدید غم و غصے کا اظہار کر رہی ہے۔ یہ خبر نہ صرف ایک ماں، بیوی اور ڈاکٹر کی زندگی کی قیمت ادا کرنے والے معاشرے کے لیے ایک لمحہ فکریہ ہے، بلکہ یہ بھی بتاتی ہے کہ قانون کی گرفت اب مضبوط ہو رہی ہے۔ ڈاکٹر مہوش جیسی بہادر خواتین جو دن رات لوگوں کی جان بچاتی ہیں، ان کی حفاظت ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ امید ہے کہ جلد ملزمان سلاخوں کے پیچھے ہوں گے، اور انصاف کی آواز گونج اٹھے گی۔







Discussion about this post