تار
English
  • پاکستان
  • جہاں نامہ
  • صنف
  • ادب
  • اینٹرٹینمٹ
  • ویڈیوز
  • کھیل
  • کاروبار
  • صحافت
  • تجزیئے
No Result
View All Result
  • پاکستان
  • جہاں نامہ
  • صنف
  • ادب
  • اینٹرٹینمٹ
  • ویڈیوز
  • کھیل
  • کاروبار
  • صحافت
  • تجزیئے
No Result
View All Result
No Result
View All Result
تار

سانحہ گل پلازہ، دو بچے ماچس سے کھیل رہے تھے جس سے آگ لگی، ایس ایس پی سٹی

by ویب ڈیسک
فروری 23, 2026
gul plaza
Share on FacebookShare on Twitter

کراچی کے تاریخی اور دل دہلا دینے والے سانحے گل پلازہ فائر میں اب تک کی سب سے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ کمیشن آف انکوائری کی سماعت کے دوران ایس ایس پی عارف عزیز نے ایک چونکا دینے والا انکشاف کیا کہ آگ لگنے کی بنیادی وجہ دو معصوم بچوں کی شرارت تھی۔ ابتدائی تفتیش کے مطابق دو بچے عمارت کے کسی حصے میں آگ سے کھیل رہے تھے، جس سے شعلے بھڑک اٹھے اور چند لمحوں میں پورا تجارتی مرکز آگ کی لپیٹ میں آ گیا۔ پولیس نے ان دونوں بچوں کو طلب کیا اور ان کے بیانات قلمبند کیے، جن میں انہوں نے خود اس بات کا اعتراف کر لیا کہ وہ آگ سے کھیل رہے تھے۔ یہ اعتراف اس سانحے کی سنگینی کو مزید واضح کرتا ہے کہ ایک چھوٹی سی غلطی نے کتنی بڑی تباہی مچا دی۔ کمیشن کے سربراہ نے جب سی سی ٹی وی فوٹیج کے بارے میں پوچھا تو ایس ایس پی نے بتایا کہ عمارت کی زیادہ تر ڈی وی آرز آگ میں جل کر راکھ ہو گئی تھیں۔ تاہم بیسمنٹ سے ایک ڈی وی آر برآمد ہوئی جس میں کچھ قیمتی ویڈیوز محفوظ تھیں۔ ان ویڈیوز میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ آگ لگنے کے فوراً بعد عمارت کے ایسوسی ایشن کے صدر اور کچھ دیگر افراد باہر نکل رہے تھے۔ یہ مناظر نہ صرف تفتیش کے لیے اہم ہیں بلکہ سوال بھی اٹھاتے ہیں کہ کیا عمارت کے انتظامیہ نے بروقت ایکشن لیا یا نہیں۔

gul plaza

ایس ایس پی عارف عزیز نے اپنی رپورٹ میں واضح کیا کہ آگ کی اصل وجہ بچوں کی جانب سے آگ سے کھیلنا تھا، جبکہ عمارت میں رکھا گیا انتہائی آتش گیر سامان، پلاسٹک، کپڑے، الیکٹرانکس اور دیگر اشیا نے شعلوں کو تیزی سے پھیلنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ نتیجتاً آگ نے چند منٹوں میں پورے عمارت کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، جس سے متعدد قیمتی جانیں ضائع ہوئیں اور تاجروں کا اربوں روپے کا سامان خاکستر ہو گیا۔ گل پلازہ کراچی کے سب سے بڑے اور مصروف تجارتی مراکز میں شمار ہوتا تھا، جہاں ہزاروں لوگ روزانہ آمدورفت کرتے تھے۔ اس سانحے نے نہ صرف خاندانوں کو اجاڑ دیا بلکہ کئی نسلوں کی محنت اور سرمایہ بھی لٹا دیا۔ کمیشن کی تشکیل اسی لیے کی گئی تھی کہ حقیقت سامنے لائے جائے، ذمہ داروں کا تعین کیا جائے اور مستقبل میں ایسے دلخراش واقعات سے بچا جا سکے۔ اب جب ابتدائی وجہ سامنے آ چکی ہے تو سوال یہ ہے کہ کیا بچوں کی نگرانی کی کمی تھی؟ کیا عمارت میں فائر سیفٹی کے بنیادی انتظامات موجود تھے؟ کیا ایسوسی ایشن اور انتظامیہ نے اپنی ذمہ داری پوری کی؟ یہ سب سوالات اب بھی جواب طلب ہیں، اور امید ہے کہ کمیشن کی حتمی رپورٹ ان تمام پہلوؤں کو بے نقاب کر دے گی۔

Previous Post

بی جے پی رہنما کا مسلم خواتین سے امتیازی سلوک کا واقعہ

Next Post

افغان طالبان کی دہشتگردوں کی پشت پناہی بےنقاب

Next Post
afghan

افغان طالبان کی دہشتگردوں کی پشت پناہی بےنقاب

Discussion about this post

تار نامہ

children

یتیم بچوں اور بیواؤں کے لیے ’وزیراعلیٰ پنجاب رحمت کارڈ‘ متعارف کرانے کا فیصلہ

port

پاکستانی بندرگاہوں کی عارضی بندش سے متعلق زیرِ گردش نوٹیفکیشن جعلی ہے

ayat al khumani 2

ایرانی سپریم لیڈر خامنہ ای کی نماز جنازہ کیوں مؤخر ہوئی ؟

currency note

نئے کرنسی نوٹ کیسے حاصل کریں؟

dog

پنجاب میں 2 سال کے دوران 4 لاکھ 36 ہزار سے زائد کتوں کے کاٹنے کے واقعات

تار

  • ہمارے بارے میں
  • پرائیویسی پالیسی

No Result
View All Result
  • پاکستان
  • جہاں نامہ
  • صنف
  • ادب
  • اینٹرٹینمٹ
  • ویڈیوز
  • کھیل
  • کاروبار
  • صحافت
  • تجزیئے

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist