امریکی محکمہ خارجہ کے ایک شاندار اعلامیے نے دنیا کو ایک نئی امید کی کرن دکھائی ہے، جب واشنگٹن ڈی سی میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے وزیراعظم محمد شہباز شریف سے تاریخی ملاقات کی۔ یہ لمحہ نہ صرف دو عظیم رہنماؤں کا سنگ میل تھا بلکہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان گہرے اعتماد اور مشترکہ عزائم کا خوبصورت اظہار بھی۔مارکو روبیو نے دل کی گہرائیوں سے پاکستان کا شکریہ ادا کیا کہ اس نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے کی پُرجوش حمایت کی اور بورڈ آف پیس کے افتتاحی اجلاس میں بانی رکن کی حیثیت سے شرکت کی۔ یہ حمایت امن کی اس عظیم کوشش کو مزید مضبوط بناتی ہے جو خطے اور دنیا کے لیے ایک نئی صبح کا وعدہ لیے ہوئے ہے۔ ملاقات میں حالیہ دہشت گرد حملوں, 31 جنوری کو بلوچستان اور 6 فروری کو اسلام آباد میں پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے روبیو نے دونوں ممالک کی دہشت گردی کے خلاف جاری شراکت داری کو ناقابلِ فراموش قرار دیا۔ یہ شراکت نہ صرف سلامتی کی ڈھال ہے بلکہ ایک دوسرے کے لیے ناقابلِ تسخیر عزم کی علامت بھی۔دونوں رہنماؤں نے اہم معدنی وسائل کی ترقی، توانائی کے شعبے کی روشن آینده اور امریکی کمپنیوں کے لیے پاکستان میں پھیلے ہوئے سنہری سرمایہ کاری کے مواقع پر گہرائی سے تبادلہ خیال کیا۔ یہ گفتگو مستقبل کی بنیاد رکھنے والی تھی، جہاں پاکستان کی قدرتی دولت اور امریکی ٹیکنالوجی مل کر ترقی کی نئی منزلیں طے کریں گی۔ مارکو روبیو نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں اس ملاقات کو یادگار بناتے ہوئے لکھا کہ وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات ایک خوشگوار لمحہ تھا۔ پاکستان کی غزہ امن منصوبے کی حمایت اور بورڈ آف پیس میں شرکت کی قدر کی جاتی ہے۔ ہم نے اہم معدنی وسائل کی ترقی اور دہشت گردی کے خلاف اسٹریٹجک تعلقات کی اہمیت پر دلچسپ گفتگو کی۔







Discussion about this post