کراچی کی گلیوں میں ایک بار پھر امن کی فتح کا ایک سنہرا باب رقم ہوا ہے۔ پاکستان رینجرز (سندھ) نے خفیہ انٹیلی جنس کی بنیاد پر تیز اور بے عیب کارروائی کرتے ہوئے گلستان جوہر کے علاقے سے فتنۂ الخوارج کے انتہائی مطلوب دہشت گرد دوست محمد ولد گل فراز خان کو گرفتار کر لیا۔ یہ ملزم باجوڑ کا رہائشی ہے، جو دہشت گردی کے تاریک راستوں پر چل کر شہر کی امن و سلامتی کے لیے سنگین خطرہ بن چکا تھا۔نومبر 2020 کا وہ سیاہ دن ابھی تک خیبر پختونخوا کے نواگئی میں گونجتا ہے، جب اس ملزم نے اپنے دیگر ساتھیوں کے ہمراہ اسسٹنٹ کمشنر پر بے دردی سے فائرنگ کی اور سرکاری مشینری کو آگ کے حوالے کر دیا۔ یہ سنگین جرم سی ٹی ڈی مالاکنڈ ریجن میں دہشت گردی کی سنگین دفعات کے تحت درج ہے، اور اس واردات کے بعد یہ ملزم کراچی کی آبادی میں چھپ کر روپوش ہو گیا تھا۔ وہاں سے وہ اپنے دیگر ساتھیوں کے ساتھ مل کر شہر کے حساس مقامات پر نئی دہشت گردی کی منصوبہ بندی میں مصروف تھا، جو ایک لمحے میں بے شمار جانیں لے سکتی تھیں۔رینجرز کی بہادر ٹیموں نے اسے خواب غفلت میں گرفتار کر کے اس سازش کو ناکام بنا دیا۔ گرفتار ملزم کو اب مزید قانونی کارروائی اور تفتیش کے لیے سی ٹی ڈی پولیس خیبر پختونخوا کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ اس کے باقی ساتھیوں کی تلاش کے لیے چھاپے جاری ہیں، تاکہ اس نیٹ ورک کی جڑیں مکمل طور پر اکھاڑی جا سکیں۔







Discussion about this post