بھارتی اے آئی سمٹ، جو ملک کی ٹیکنالوجی کی عالمی قیادت اور ترقی کے بلند بانگ دعووں کا مظہر بننے والا تھا، پہلے ہی دن مکمل انتشار اور بدانتظامی کی نذر ہو گیا ۔ ایک ایسی شرمندگی جو بھارت کی عالمی ساکھ پر گہرا داغ لگا گئی۔ ریٹرز اور دیگر بین الاقوامی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق، دہلی کے بھارت منڈپم میں منعقد ہونے والے اس عظیم الشان "انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ” کے افتتاحی دن شرکاء لمبی قطاروں، بھیڑ بھاڑ اور شدید کنفیوژن میں گھنٹوں پھنسے رہے۔ اسپیکرز کو سیشن کے اوقات کی تصدیق کا انتظار کرنا پڑا، جبکہ ڈیلیگیٹس اور نمائش کنندگان کو داخلے، سیکیورٹی چیک اور بنیادی سہولیات تک رسائی میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ شرکاء نے نہ صرف انتشار اور بھیڑ کا رونا روا بلکہ اسٹالز سے مصنوعات کی چوری کی اطلاعات بھی دیں ۔ ایک معروف اے آئی اسٹارٹ اپ کے بانی نے الزام لگایا کہ ان کے ویئرایبل ڈیوائسز سیکیورٹی کلیئرنس کے دوران غائب ہو گئے۔ مزید شرمندگی کی بات یہ کہ کھانے پینے کی جگہوں پر ڈیجیٹل ادائیگیاں قبول نہیں کی جا رہی تھیں؛ صرف کیش لین دین ممکن تھا، جس سے بین الاقوامی وفود کو شدید پریشانی ہوئی۔ نیٹ ورک کی کمی، واٹر کی عدم دستیابی اور رجسٹریشن سسٹم کے کریش ہونے کی شکایات نے پورے دن کو ایک افراتفری میں بدل دیا۔
بھارتی اے آئی سمٹ میں مکمل بدانتظامی اور ناکامی بھارت کیلئے شرمندگی کا باعث بن گئی
شرکاء نے بھارتی اے آئی سمٹ کے دوران حکام کی نااہلی کے باعث شدید انتظامی بحران کا پول کھول دیا
بھارتی حکام کے ناقص انتظامات کے باعث شرکاء سیشن کے اوقات کی تصدیق کے انتظار میں گھنٹو ں دربدر… pic.twitter.com/tJgxxlRrPa
— PTV News (@PTVNewsOfficial) February 18, 2026
بھارتی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی اشونی ویشنو نے اس ناقص انتظام کو تسلیم کرتے ہوئے عوامی طور پر معافی مانگ لی اور "وار روم” قائم کرنے کا اعلان کیا تاکہ مسائل حل کیے جا سکیں۔ تاہم، کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے اسے "مکمل انتشار اور درجہ بندی کی بدترین ناکامی” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ "پی آر بھوک” حکومت کی جانب سے عالمی سطح پر بھارت کی رسوائی کا باعث بنا۔ عالمی ماہرین اور ناقدین کا کہنا ہے کہ بھارت کی اعلیٰ سیاسی قیادت کی ترجیحات ملکی مفادات اور عملی ترقی کے بجائے محض ذاتی تشہیر اور میڈیا شوز تک محدود رہ گئی ہیں۔
‘We were made to vacate or exhibition, we are left without food and water, we feel like we are jailed.’
Narendra Modi caused a global embarrassment by gatecrashing the AI Summit in Delhi for his own photo-op.
This is what exhibitor Romil Rungta, Sales head at YuVerse, a… pic.twitter.com/7V35Sz1mlE
— Congress (@INCIndia) February 17, 2026
مودی حکومت کے یہ بلند و بانگ ترقیاتی دعوے، جو اے آئی میں عالمی لیڈرشپ کا خواب دکھاتے ہیں، عملی میدان میں بری طرح ناکام ہو چکے ہیں جہاں ایک عالمی سمٹ کوئی شوپیس نہیں بلکہ ایک بڑی شرمندگی بن کر رہ گیا۔ یہ واقعہ نہ صرف انتظامی نااہلی کی عکاسی کرتا ہے بلکہ یہ پیغام بھی دیتا ہے کہ خوابوں کی عمارتیں اگر بنیادوں پر مضبوط نہ ہوں تو وہ ایک لمحے میں بکھر جاتی ہیں۔ بھارت کی یہ تلخ حقیقت دنیا دیکھ رہی ہے۔






Discussion about this post