وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے لاہور میں میڈیا سے کھل کر گفتگو کرتے ہوئے ایک بار پھر حقیقت کی آواز بلند کی، جو پروپیگنڈے کے سمندر میں امید کی کرن ثابت ہوئی۔انہوں نے واضح کیا کہ بانی پی ٹی آئی کی آنکھ کے معاملے پر بھرپور پروپیگنڈا کیا گیا، ایسا تاثر دیا گیا جیسے بینائی شدید متاثر ہو چکی ہو، مگر یہ سب سیاسی چال بازی تھی جسے علیمہ خان بیماری کو کیش کرانے کے لیے استعمال کر رہی ہیں۔وزیر داخلہ نے بتایا کہ حکومت نے آئین و قانون کے تحت ہر ممکن سہولت فراہم کرنے کا عزم رکھا۔ پی ٹی آئی قیادت سے رابطے پہلے سے تھے، محمود خان اچکزئی کے خط سے بھی پہلے ایاز صادق جیسے رہنما ذریعے بات چیت جاری تھی۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے پی ٹی آئی سے کہا کہ کوئی معروف آئی اسپیشلسٹ کا نام دیں، چیک اپ کروا دیں گے۔انہوں نے اسپتال میں ایک ہفتہ داخلے کا مطالبہ کیا، جو ممکن نہ تھا، تو ہم نے سرکاری اور پرائیویٹ شعبے کے بہترین ڈاکٹروں کا بورڈ تشکیل دیا۔ بیرسٹر گوہر کو اڈیالہ جیل میں بلایا گیا تاکہ وہ خود چیک اپ کی نگرانی کریں۔ ایک گھنٹہ انتظار کیا گیا، مگر وہ پارٹی مشاورت کے بعد نہ آ سکے۔ ڈاکٹروں نے ساڑھے تین بجے تفصیلی معائنہ کیا، ڈیڑھ گھنٹے تک جاری رہا۔ پھر بیرسٹر گوہر، اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی اور سینیٹ کو پمز بلایا گیا۔ انہیں اپنے ڈاکٹروں کو ساتھ لانے کی پیشکش کی گئی۔ وہاں ڈیڑھ گھنٹے کی ملاقات ہوئی، جس میں 45 منٹ فون پر بریفنگ لی گئی۔ان کے ڈاکٹروں نے کہا کہ یہ بہترین علاج ہے، اگر وہ خود کرتے تو یہی کرتے۔سیاسی رہنماؤں نے اطمینان کا اظہار کیا، ہم نے کہا کوئی ٹیسٹ رہ گیا تو کرا دیں گےمگر علیمہ خان نے پارٹی کو کہا کہ اگر مان لیا تو ایشو ختم ہو جائے گا، اس لیے ویٹو کر دیا۔ یہ تین دن کی تاخیر کی وجہ بنی۔اگر نیت صاف ہوتی تو پہلے دن ہی اتفاق ہو جاتا۔ احتیاطاً آنکھ میں انجیکشن لگوانے کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا، جو جیل میں بھی ممکن تھا۔ محسن نقوی نے زور دیا کہ کوئی بھی قیدی ہو، علاج ہمارا فرض ہے۔ بانی پی ٹی آئی کو جو سہولیات مل رہی ہیں، وہ ریکارڈ کا حصہ ہیں۔ پھر روڈ بلاکس، احتجاج اور لوگوں کو تنگ کرنے کی کیا ضرورت؟ صحافیوں کو جیل لے جا کر سہولیات دکھائی جائیں۔ حکومت اس معاملے پر سیاست نہیں کرنا چاہتی۔ میڈیکل رپورٹ سامنے آ چکی ہے، جو بہتری کی گواہی دیتی ہے۔ غیر مناسب باتیں شیئر نہ کرنا چاہیے، مگر لوگوں کو گمراہ کیا جا رہا ہے۔ عدالت نے کے پی میں بند سڑکوں کو بحال کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے گا۔ اسلام آباد کے ریڈ زون میں خرابی پیدا کرنے کی کوشش کی گئی، مگر خوش اسلوبی سے سنبھال لیا۔







Discussion about this post