تار
English
  • پاکستان
  • جہاں نامہ
  • صنف
  • ادب
  • اینٹرٹینمٹ
  • ویڈیوز
  • کھیل
  • کاروبار
  • صحافت
  • تجزیئے
No Result
View All Result
  • پاکستان
  • جہاں نامہ
  • صنف
  • ادب
  • اینٹرٹینمٹ
  • ویڈیوز
  • کھیل
  • کاروبار
  • صحافت
  • تجزیئے
No Result
View All Result
No Result
View All Result
تار

بچے کی پیدائش پر والد کو بھی چھٹی دینا لازم قرار

by ویب ڈیسک
فروری 16, 2026
ایک سال میں ہزار سے زائد پاکستانی ڈاکٹروں نے امریکا میں رہائش اختیار کی
Share on FacebookShare on Twitter

وفاقی محتسب برائے انسداد ہراسیت فوزیہ وقار نے ایک تاریخی اور بہادرانہ فیصلہ سناتے ہوئے پاکستان کی کام کرنے والی فیملیز کے لیے ایک نئی امید کی کرن روشن کر دی ہے۔ بچے کی پیدائش کے موقع پر والد کو بھی 30 دن کی پیٹرنیٹی رخصت نہ دینے پر انہوں نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان پر پانچ لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کر دیا. یہ فیصلہ نہ صرف ایک فرد کی انصاف کی فتح ہے بلکہ صنفی مساوات اور والدین کی مشترکہ ذمہ داریوں کی ایک زبردست تصدیق ہے۔ بینکنگ سیکٹر کے افسر سید باسط علی نے جب اپنی اہلیہ کی بچے کی پیدائش پر 30 دن کی پیٹرنیٹی رخصت مانگی تو اسٹیٹ بینک نے پالیسی نہ ہونے کا بہانہ بنا کر درخواست ٹھکرا دی۔ یہ انکار انہیں برداشت نہ ہوا اور وہ وفاقی محتسب کے دفتر (فوسپاہ) پہنچے۔ فوزیہ وقار کی سربراہی میں فوسپاہ نے نہ صرف اس انکار کو صنفی بنیاد پر ہراسمنٹ اور امتیاز قرار دیا بلکہ واضح الفاظ میں کہا کہ بچوں کی دیکھ بھال صرف ماؤں کی ذمہ داری نہیں, یہ والدین کی مشترکہ خوشی اور ذمہ داری ہے۔ پیٹرنیٹی رخصت سے انکار بچے کے بہترین مفادات کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔

فیصلے کی تفصیلات دل کو چھو لینے والی ہیں:

  • اسٹیٹ بینک پر 5 لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کیا گیا۔
  • اس میں سے 4 لاکھ روپے شکایت گزار سید باسط علی کو ادا کیے جائیں گے—ایک طرح سے ان کی تکلیف کی تلافی۔
  • باقی ایک لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے جائیں گے۔
  • بینک کو حکم دیا گیا کہ سید باسط علی کو مختلف تنخواہ کے ساتھ 30 دن کی پیٹرنیٹی رخصت دی جائے۔
  • مزید یہ کہ اسٹیٹ بینک میٹرنٹی اینڈ پیٹرنیٹی لیو ایکٹ 2023 کے تحت فوری طور پر پالیسی بنائے اور اسے نافذ کرے۔

یہ فیصلہ پاکستان میں والد کی چھٹی کو لازمی قرار دینے کی طرف ایک مضبوط قدم ہے۔ میٹرنٹی اینڈ پیٹرنیٹی لیو ایکٹ 2023 کے تحت وفاقی ملازمین کو پہلے بچے پر 180 دن تک میٹرنٹی اور مرد ملازمین کو 30 دن پیٹرنیٹی رخصت کا حق ہے، مگر جب ادارے اسے نظر انداز کرتے ہیں تو فوسپاہ جیسے ادارے انصاف کی آواز بن کر سامنے آتے ہیں۔ فوزیہ وقار کا یہ فیصلہ نہ صرف سید باسط علی کی فتح ہے بلکہ ہر اس باپ کی آواز ہے جو اپنے ننھے منے بچے کے پہلے لمحات میں شریک ہونا چاہتا ہے۔ یہ پیغام واضح ہے: خاندان کی خوشی اور بچوں کی پرورش صنفی امتیاز کا شکار نہیں ہو سکتی۔ یہ فیصلہ پاکستان کی کام کرنے والی فیملیز کے لیے ایک سنہری باب ہے

Previous Post

میڈیکل ٹیم کا دورہ اڈیالہ جیل، بانی پی ٹی آئی کی آنکھوں کے علاج پر اطمینان کا اظہار

Next Post

پاکستان اور چین آہنی بھائی ہیں

Next Post
پاکستان کسی دوسرے حادثے کا متحمل نہیں ہوسکتا

پاکستان اور چین آہنی بھائی ہیں

Discussion about this post

تار نامہ

children

یتیم بچوں اور بیواؤں کے لیے ’وزیراعلیٰ پنجاب رحمت کارڈ‘ متعارف کرانے کا فیصلہ

port

پاکستانی بندرگاہوں کی عارضی بندش سے متعلق زیرِ گردش نوٹیفکیشن جعلی ہے

ayat al khumani 2

ایرانی سپریم لیڈر خامنہ ای کی نماز جنازہ کیوں مؤخر ہوئی ؟

currency note

نئے کرنسی نوٹ کیسے حاصل کریں؟

dog

پنجاب میں 2 سال کے دوران 4 لاکھ 36 ہزار سے زائد کتوں کے کاٹنے کے واقعات

تار

  • ہمارے بارے میں
  • پرائیویسی پالیسی

No Result
View All Result
  • پاکستان
  • جہاں نامہ
  • صنف
  • ادب
  • اینٹرٹینمٹ
  • ویڈیوز
  • کھیل
  • کاروبار
  • صحافت
  • تجزیئے

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist