بنوں کی سرزمین پر آج ایک بار پھر موت نے خوفناک رقص کیا، جہاں تھانہ میریان کے مرکزی گیٹ کے سامنے دہشت کی ایک گھٹیا سازش نے انسانی جانوں کو نذرِ آتش کر دیا۔ بارود سے لبریز ایک زرنج رکشہ نے تھانے کے گیٹ سے ٹکرا کر اپنا زہریلا منہ کھولا، جبکہ قریبی دکانوں کے سامنے کھڑی ایک موٹر سائیکل میں چھپا آئی ای ڈی بھی اچانک پھٹ پڑا۔ یہ دھماکہ اتنا شدید تھا کہ آسمان گواہ بنا، اور زمین لرز اٹھی۔معصوم بچوں کی معصومیت اور عام شہریوں کی روزمرہ کی چہل پہل اس وحشت کا شکار ہو گئی۔ دو ننھے جسم ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گئے، جن میں ایک معصوم بچہ بھی شامل تھا جو شاید ابھی زندگی کے رنگ دیکھنے کی عمر میں تھا۔ کم از کم بیس زخمی روحیں درد کی آگ میں تڑپ رہی ہیں، جنہیں فوری طور پر اسپتالوں کی ایمرجنسی وارڈز میں پہنچایا گیا جہاں ڈاکٹروں کی ٹیمیں دن رات لڑ رہی ہیں۔ پولیس اہلکار اس موت کے طوفان سے محفوظ رہے، مگر معصوم عوام نے اس کی قیمت ادا کی۔ ڈی آئی جی بنوں سجاد خان کی آواز میں غم اور عزم دونوں گونج رہے تھے جب انہوں نے بتایا کہ یہ خون آشام حملہ عام لوگوں کو نشانہ بنا کر دہشتگردوں کی بزدلی کی ایک اور مثال ہے۔ موقع پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بھاری نفری پہنچ گئی، علاقہ مکمل طور پر گھیرے میں لے لیا گیا، اور سرچ آپریشن کا آغاز ہو چکا ہے۔ تحقیقات کا سلسلہ تیز رفتار سے جاری ہے، اور وعدہ کیا جا رہا ہے کہ اس خون کے ذمہ داروں کو عنقریب انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ دوسری طرف، بنوں کی سرحدوں پر ایک اور سانحہ رونما ہوا۔ ایف سی کی منزئی پوسٹ مرتضیٰ میں کواڈ کاپٹر ڈرون کے ذریعے حملہ کیا گیا۔ زخمی جوانوں کو بچانے کے لیے پہنچی فرنٹیئر کور کی کوڑ قلعہ ٹیم پر بھی فائرنگ اور دھماکوں کی بوچھاڑ ہوئی۔ اس جرات مندانہ مزاحمت میں دو بہادر جوان شہید ہو گئے: لانس نائیک باسط اور سپاہی عصمت اللہ، جن کی قربانی وطن کی حفاظت کی داستان میں سنہری حروف سے لکھی جائے گی۔ زخمیوں میں نائب صوبیدار زاہد، نائیک مدثر، سپاہی اصغر، حوالدار شاہ پور خان اور لانس نائیک جان شامل ہیں، جو اب درد اور عزم کے ساتھ لڑ رہے ہیں۔ یہ لمحات پاکستان کے ان بہادروں اور معصوم شہریوں کی قربانیوں کی یاد دلاتے ہیں جو ہر روز دہشت کے سائے میں جی رہے ہیں، مگر پھر بھی امید کی کرن کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ ان شہادتوں اور زخموں سے وطن کا عزم مزید پختہ ہو گا، اور یہ تاریک راتیں ضرور روشنی کی صبح کی طرف لے جائیں گی۔







Discussion about this post