امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مشرق وسطیٰ کی طرف دنیا کا سب سے بڑا بحری بیڑہ یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ کو فوری طور پر روانہ کرنے کا حکم دے دیا ہے، جو ایک طاقتور پیغام ہے کہ امریکہ ایران کے ساتھ مذاکرات کو سنجیدگی سے لے رہا ہے مگر ناکامی کی صورت میں سخت اقدامات سے دریغ نہیں کرے گا۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایران کے ساتھ ایک مضبوط معاہدہ چاہتے ہیں، اور امید ہے کہ یہ بات چیت کامیاب ہو گی، لیکن اگر ایسا نہ ہوا تو ایران کے لیے حالات انتہائی مشکل اور تکلیف دہ ہو جائیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ معاہدہ نہ بننے کی صورت میں یہ بحری بیڑہ اور علاقے میں موجود دیگر فوجی اثاثے استعمال میں آ سکتے ہیں۔ ٹرمپ نے مزید کہا کہ مشرق وسطیٰ میں پہلے سے ہی ایک بحری بیڑہ موجود ہے، اور اب دوسرا شامل ہو رہا ہے، جبکہ امریکی فوج کی بڑی تعداد تیار حالت میں ہے۔ یہ اقدام ایران پر دباؤ بڑھانے کا ایک واضح اشارہ ہے، جہاں ٹرمپ نے خبردار کیا کہ ناکام مذاکرات کے نتیجے میں ایران کو سنگین نتائج بھگتنے پڑ سکتے ہیں۔ دوسری طرف ایک امریکی عہدیدار نے بتایا کہ فوج ایران کے خلاف ممکنہ کارروائیوں کی تیاری میں مصروف ہے، اور اگر ضرورت پڑی تو یہ آپریشن کئی ہفتوں تک جاری رہ سکتا ہے، جو علاقائی تناؤ کو مزید بلند سطح پر لے جا سکتا ہے۔ یہ سب کچھ اس وقت ہو رہا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان براہ راست مذاکرات کا دوسرا دور منگل کو جنیوا میں ہونے جا رہا ہے۔

امریکی وفد کی قیادت اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کریں گے، جبکہ ایرانی حکام سے ملاقات ہو گی۔ یہ بات چیت عمان کی ثالثی میں شروع ہوئی تھی اور اب جنیوا میں جاری رہے گی، جہاں ٹرمپ انتظامیہ ایران کے جوہری پروگرام، میزائلوں اور علاقائی سرگرمیوں پر سخت شرائط رکھ رہی ہے۔ اسی دن جنیوا میں امریکہ روس اور یوکرین کے ساتھ سہ فریقی مذاکرات میں بھی شریک ہو گا، جو عالمی سطح پر ٹرمپ کی سفارتی حکمت عملی کی عکاسی کرتا ہے۔ ادھر ایک الگ اہم پیش رفت میں، ڈی پی ورلڈ کی قیادت میں بڑی تبدیلی آئی ہے۔ کمپنی کے سابق چیئرمین اور گروپ سی ای او سلطان احمد بن سلییم نے فوری طور پر استعفیٰ دے دیا ہے، اور بورڈ نے ہز ایکسلنسی عیسیٰ کاظم کو نیا چیئرمین جبکہ یووراج نارائن کو گروپ سی ای او مقرر کر دیا ہے۔ یہ تبدیلی عالمی لاجسٹکس اور تجارت کے میدان میں ایک اہم موڑ ہے، جو مستقبل کی حکمت عملیوں پر اثر انداز ہو گی۔







Discussion about this post