اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے طالبان پر عائد پابندیوں کی نگرانی کرنے والی مانیٹرنگ ٹیم کو ایک سال کی نئی زندگی عطا کر دی ہے۔ قرارداد نمبر 2716 کو تمام پندرہ ارکان نے متفقہ طور پر منظور کرتے ہوئے اس ٹیم کا مینڈیٹ 17 فروری 2027 تک بڑھا دیا گیا۔ یہ وہ قرارداد ہے جو امریکہ نے پیش کی، اور پاکستان نے اس کی بھرپور حمایت کی۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے ایک بار پھر دنیا کے سب سے بڑے فورم پر افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف دہشت گردی کی آگ کو بے نقاب کیا۔ انہوں نے ببانگِ دہل کہا کہ تحریک طالبان پاکستان، بلوچستان لبریشن آرمی، داعش خراسان اور القاعدہ جیسے خونخوار گروہ پاکستان کے خلاف سنگین حملوں میں ملوث ہیں، اور صرف حالیہ مہینوں میں ہی ان کی بزدلانہ کارروائیوں نے 80 معصوم پاکستانیوں کی جانیں چھین لیں۔ عاصم افتخار نے طالبان کو براہ راست مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ افغان سرزمین کو ہمسایہ ممالک کے خلاف دہشت گردی کے اڈے کے طور پر استعمال ہونے دینا کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔ اگر افغانستان عالمی برادری کا ذمہ دار رکن بننا چاہتا ہے تو اسے دہشت گرد گروہوں کے خلاف واضح، ٹھوس اور ناقابلِ واپسی اقدامات کرنے ہوں گے۔
Explanation of Vote by Ambassador Asim Iftikhar Ahmad
Permanent Representative of Pakistan to the UN
At the1988 Mandate Renewal of the Monitoring Team for the 1988 Taliban Sanctions Regime*
(12 February 2026)
***Thank you Mr. President,
Pakistan voted in favor of this… pic.twitter.com/rT665naqoK
— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) February 12, 2026
اقوام متحدہ کی تازہ ترین مانیٹرنگ رپورٹ نے بھی پاکستان کے موقف کی تصدیق کر دی ہے۔ رپورٹ میں لکھا ہے کہ افغانستان میں متعدد دہشت گرد گروہ سرگرم ہیں، خاص طور پر ٹی ٹی پی کو وہاں انتہائی سازگار ماحول میسر ہے۔ القاعدہ نے خطے اور عالمی سطح پر حملوں کی صلاحیت برقرار رکھی ہے، داعش خراسان شمالی افغانستان میں مضبوط ہے، جبکہ بی ایل اے پاکستان کی سیکیورٹی فورسز اور سی پیک منصوبوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ رپورٹ سرحد پار دہشت گردی، انتہا پسندی کے پھیلاؤ اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال پر بھی شدید تشویش کا اظہار کرتی ہے۔ سلامتی کونسل نے اپنی قرارداد کے ذریعے طالبان کو واضح پیغام دے دیا ہے کہ افغان سرزمین دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہ نہیں بن سکتی۔ تمام رکن ممالک کو یرغمالیوں کے بدلے تاوان یا سیاسی رعایت دینے سے سختی سے گریز کرنا ہوگا۔ یہ قرارداد اور یہ رپورٹ ایک ساتھ مل کر ایک طاقتور اعلان ہے کہ عالمی برادری اب خاموش تماشائی نہیں بن سکتی۔
Through adoption of this resolution, the Security Council has sent a clear message to the Taliban authorities that Afghan territory should not be used to threaten or attack any country, and that no Afghan group or individual should support terrorists operating on the territory of… pic.twitter.com/Iic3goSshP
— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) February 12, 2026
افغانستان کو اب فیصلہ کرنا ہے کہ وہ تنہائی اور دہشت گردی کی دلدل میں دھنستا رہے یا امن، ترقی اور عالمی احترام کا راستہ اختیار کرے۔ پاکستان کی آواز ایک بار پھر سچ ثابت ہوئی ہے، اور اب دنیا اس سچ کو تسلیم کرنے پر مجبور ہو چکی ہے۔







Discussion about this post