رمضان المبارک کی آمد پنجاب کے لیے نہ صرف عبادت اور رحمت کا مہینہ ہے بلکہ امن و امان کی مضبوط ڈھال قائم کرنے کا سنہری موقع بھی ہے۔ محکمہ داخلہ پنجاب نے اس مقدس مہینے میں شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے ایک جامع، فول پروف اور انتہائی سخت سیکیورٹی پلان جاری کر دیا ہے، جو ہر شہری کو سکون سے روزے رکھنے، تراویح ادا کرنے اور افطار کے لمحات گزارنے کی ضمانت دیتا ہے۔ محکمہ داخلہ نے واضح ہدایات جاری کی ہیں کہ مساجد، امام بارگاہوں، مدارس اور دیگر مذہبی مقامات کی سیکیورٹی کو اولین ترجیح دی جائے۔ ان مقدس مقامات کی حفاظت کے لیے اضافی نفری تعینات کی جا رہی ہے تاکہ کوئی بھی ناخوشگوار واقعہ رونما نہ ہو سکے۔ رمضان بازاروں، جہاں لوگ سحری اور افطاری کی تیاری کرتے ہیں، وہاں بھی نگاہوں کی سخت نگرانی رکھی جائے گی۔ سحری، افطار، تراویح اور جمعہ کی نماز کے اوقات میں سیکیورٹی کو مزید سخت کر دیا جائے گا۔ عبادت گاہوں کے اطراف میں گشت، ناکہ بندی اور سرچ آپریشنز کو انتہائی مؤثر اور مربوط بنایا جائے گا تاکہ ہر ممکن خطرہ قبل از وقت روکا جا سکے۔ رمضان سے پہلے ہی سی سی ٹی وی کیمروں، واک تھرو گیٹس اور سرچ لائٹس کی تنصیب کو یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے، جو نگرانی کے نظام کو جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ کرے گی۔افطار کے مقدس لمحات میں فیلڈ میں تعینات اہلکاروں کی افطاری کا خصوصی اہتمام کرنے کا حکم بھی دیا گیا ہے، تاکہ وہ بھی اس برکت والے وقت کا حصہ بن سکیں۔

کالعدم تنظیموں اور فورتھ شیڈول میں شامل افراد پر گہری نظر رکھی جائے گی، جبکہ ذخیرہ اندوزوں اور ناجائز منافع خوروں کے خلاف انتظامیہ کو سخت کارروائی کا حکم دیا گیا ہے تاکہ عام آدمی کو مہنگائی کا کوئی دکھ نہ اٹھانا پڑے۔ پنجاب بھر میں اسلحے کی نمائش پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے اور خلاف ورزی پر بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔ لاؤڈ اسپیکرز کے غلط استعمال پر ساؤنڈ سسٹمز ایکٹ کے تحت سخت ایکشن لیا جائے گا۔ سوشل میڈیا کی مسلسل مانیٹرنگ کے ذریعے نفرت انگیز، اشتعال انگیز مواد پھیلانے والوں کے خلاف فوری کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ دیواروں پر نازیبا تحریروں، پوسٹرز اور بینرز کے خاتمے کے لیے بھی متعلقہ اداروں کو ایکشن لینے کی ہدایت کی گئی ہے۔







Discussion about this post