تار
English
  • پاکستان
  • جہاں نامہ
  • صنف
  • ادب
  • اینٹرٹینمٹ
  • ویڈیوز
  • کھیل
  • کاروبار
  • صحافت
  • تجزیئے
No Result
View All Result
  • پاکستان
  • جہاں نامہ
  • صنف
  • ادب
  • اینٹرٹینمٹ
  • ویڈیوز
  • کھیل
  • کاروبار
  • صحافت
  • تجزیئے
No Result
View All Result
No Result
View All Result
تار

پنجاب میں کم عمری کی شادی کے خلاف نیا آرڈیننس

by ویب ڈیسک
فروری 12, 2026
bride
Share on FacebookShare on Twitter

پنجاب میں بچوں کے حقوق کی حفاظت کے لیے ایک تاریخی اور پرجوش قدم اٹھایا گیا ہے۔ گورنر پنجاب نے پنجاب چائلڈ میرج ریسٹرینٹ آرڈیننس 2026 کی منظوری دے دی ہے، جو فوری طور پر نافذ العمل ہو چکا ہے۔ یہ آرڈیننس صوبے بھر میں کم عمری کی شادیوں پر مکمل پابندی عائد کرتا ہے اور 18 سال کو لڑکوں اور لڑکیوں دونوں کے لیے کم از کم قانونی شادی کی عمر قرار دیتا ہے۔ پہلے کی طرح لڑکیوں کے لیے 16 سال کی عمر کا فرق ختم کر دیا گیا ہے۔ یہ قانون 1929 کے پرانے چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ کو منسوخ کرتے ہوئے ایک نئی، سخت اور صنفی مساوات پر مبنی فریم ورک متعارف کراتا ہے۔ کم عمری کی شادی اب ایک سنگین، غیر ضمانتی (non-bailable)، قابلِ گرفت اور ناقابلِ مصالحت جرم ہے۔ اس کے تحت سزائیں انتہائی سخت ہیں:

  • نکاح پڑھانے والے (جیسے نکاح رجسٹرار یا مولوی) کو ایک سال تک قید اور ایک لاکھ روپے تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔
  • کم عمر بچے یا بچی سے شادی کرنے والے بالغ شخص کو تین سال تک قید اور پانچ لاکھ روپے تک جرمانہ۔
  • پنجاب میں کم عمری کی شادی پر زیادہ سے زیادہ سات سال قید اور دس لاکھ روپے جرمانہ۔
  • بچوں کو دوسرے صوبے لے جا کر شادی کرانے کی صورت میں بھی سات سال قید اور دس لاکھ روپے جرمانہ۔
  • کم عمری کی شادی کی کوشش کرنے والے سرپرست یا والدین کو دو سال قید کی سزا کا سامنا کرنا پڑے گا۔

انتظامیہ کو خصوصی اور وسیع اختیارات دیے گئے ہیں تاکہ یہ جرائم روکے جا سکیں۔ عدالتیں منصوبہ بند شادیوں کو روکنے کا حکم دے سکتی ہیں، جبکہ نکاح رجسٹرار، والدین، گواہ اور سہولت کار سب قانون کی زد میں آئیں گے۔ یہ قدم بچوں کی صحت، تعلیم اور مستقبل کی حفاظت کے لیے ایک مضبوط ڈھال ہے، جو پاکستان کی بین الاقوامی ذمہ داریوں اور آئین کے بنیادی حقوق سے ہم آہنگ ہے۔ دوسری جانب، اس قانون پر تنازع بھی پیدا ہوا ہے۔ اسلامی نظریاتی کونسل (CII) نے اسے مسترد کر دیا ہے اور اسے اسلامی تعلیمات کے منافی قرار دیا ہے۔ جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے بھی شدید مخالفت کی ہے اور حکومت کے خلاف تحریک چلانے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے پارلیمنٹ میں کہا کہ یہ قانون غیر اسلامی ہے، وہ اس کی خلاف ورزی کریں گے اور 18 سال سے کم عمر نوجوانوں کی شادیاں خود کروائیں گے۔یہ آرڈیننس پنجاب کی لاکھوں بچیوں اور بچوں کے لیے امید کی کرن ہے۔ ایک ایسا قدم جو نہ صرف قانون کی بالادستی کو مضبوط کرتا ہے بلکہ سماجی تبدیلی کی بنیاد بھی رکھتا ہے۔

Previous Post

سابق آرمی چیف جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ گھر میں گر کر چوٹ لگنے سے زخمی

Next Post

بنگلادیش میں بی این پی کی تاریخی کامیابی، دو تہائی اکثریت حاصل

Next Post
tariq rehman

بنگلادیش میں بی این پی کی تاریخی کامیابی، دو تہائی اکثریت حاصل

Discussion about this post

تار نامہ

children

یتیم بچوں اور بیواؤں کے لیے ’وزیراعلیٰ پنجاب رحمت کارڈ‘ متعارف کرانے کا فیصلہ

port

پاکستانی بندرگاہوں کی عارضی بندش سے متعلق زیرِ گردش نوٹیفکیشن جعلی ہے

ayat al khumani 2

ایرانی سپریم لیڈر خامنہ ای کی نماز جنازہ کیوں مؤخر ہوئی ؟

currency note

نئے کرنسی نوٹ کیسے حاصل کریں؟

dog

پنجاب میں 2 سال کے دوران 4 لاکھ 36 ہزار سے زائد کتوں کے کاٹنے کے واقعات

تار

  • ہمارے بارے میں
  • پرائیویسی پالیسی

No Result
View All Result
  • پاکستان
  • جہاں نامہ
  • صنف
  • ادب
  • اینٹرٹینمٹ
  • ویڈیوز
  • کھیل
  • کاروبار
  • صحافت
  • تجزیئے

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist