سابق چیف آف آرمی اسٹاف جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ ایک افسوسناک حادثے کا شکار ہو گئے ہیں۔ اپنی رہائش گاہ پر پھسلنے سے گر کر زخمی ہونے کے بعد انہیں فوری طور پر کمبائنڈ ملٹری ہسپتال (سی ایم ایچ) راولپنڈی منتقل کر دیا گیا، جہاں وہ اب زیر علاج ہیں۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے ایک واضح اور مختصر بیان جاری کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ سابق آرمی چیف کو گھر میں گرنے کی وجہ سے چوٹ آئی ہے اور وہ فی الحال سی ایم ایچ میں طبی نگہداشت حاصل کر رہے ہیں۔ ابتدائی رپورٹس کے مطابق یہ حادثہ ننگے پاؤں پھسلنے سے پیش آیا، جس سے سر پر چوٹ لگی۔ خاندانی ذرائع اور بہنوئی نعیم گھمن کے ویڈیو پیغام میں بتایا گیا کہ تمام ضروری ٹیسٹ مکمل کر لیے گئے ہیں اور جنرل باجوہ کی حالت "سو فیصد خطرے سے باہر” ہے۔ یہ واقعہ منگل کی صبح تقریباً ساڑھے چار بجے پیش آیا، جب وہ گھر کے واش روم میں گرے۔ خاندانی اور میڈیا ذرائع کے مطابق سر پر متعدد جگہوں سے چوٹ آئی، جس کی وجہ سے احتیاطی تدابیر کے طور پر انہیں آئی سی یو میں داخل کرایا گیا تھا، مگر اب ڈاکٹروں کی نگرانی میں ان کی صحت یقینی طور پر بہتر ہو رہی ہے۔آئی ایس پی آر کا بیان اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ کوئی سنگین پیچیدگی نہیں اور علاج جاری ہے۔ 65 سالہ جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ نے 29 نومبر 2016 سے 29 نومبر 2022 تک چیف آف آرمی اسٹاف کے طور پر خدمات انجام دیں، جن کی مدت میں 2019 میں توسیع بھی دی گئی تھی۔







Discussion about this post