چیف جسٹس یحییٰ آفریدی اور جسٹس شاہد بلال حسن پر مشتمل دو رکنی بینچ نے سماعت کے دوران واضح ہدایات جاری کیں کہ بانی پی ٹی آئی کو ان کے ذاتی معالجین تک فوری رسائی دی جائے، خاص طور پر ماہر امراض چشم کے ڈاکٹروں کو، جن کی ضرورت انہوں نے عدالت میں بیان کی تھی۔ عدالت نے یہ بھی حکم دیا کہ بانی پی ٹی آئی کو ان کے بیٹوں قاسم اور سلمان سے ٹیلی فونک رابطے کی سہولت فوری طور پر فراہم کی جائے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ حکومت اچھے موڈ میں ہے، لہٰذا بانی پی ٹی آئی کو بھی اپنے بچوں سے بات چیت کا موقع ملنا چاہیے۔ انہوں نے مزید تاکید کی کہ بانی پی ٹی آئی اس وقت اسٹیٹ کسٹڈی میں ہیں، اور تمام قیدیوں کو یکساں طبی سہولیات دستیاب ہونی چاہیے۔ کوئی بھی قیدی دوسروں سے کم یا زیادہ سہولیات کا حقدار نہیں۔ سب کے ساتھ برابری کا سلوک یقینی بنایا جائے۔ سماعت کے دوران اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے عدالت کو یقین دلایا کہ حکومت ماہر آنکھوں کے ڈاکٹروں تک رسائی دینے کے لیے تیار ہے۔

بانی پی ٹی آئی نے اپنی درخواست میں طبی سہولیات کو غیر تسلی بخش قرار دیا تھا اور ذاتی ڈاکٹروں کی ضرورت پر زور دیا تھا۔ عدالت نے فرینڈ آف دی کورٹ اور جیل سپرنٹنڈنٹ کی رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ رپورٹس ایک جیسی ہیں، جو اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ سہولیات میں یکسانیت ہونی چاہیے۔ یہ فیصلہ نہ صرف بانی پی ٹی آئی کی صحت کے تحفظ کا ضامن ہے بلکہ یہ پاکستان کی عدلیہ کی طرف سے قیدیوں کے بنیادی حقوق کی پاسداری کا ایک روشن باب بھی ہے۔ عدالت کا یہ اقدام امید کی کرن ہے کہ انسانی اقدار اور قانون کی حکمرانی ہر حال میں برقرار رہے گی۔







Discussion about this post