نیویارک کے قریب لانگ آئی لینڈ کے علاقے ایلمونٹ میں پاکستانی نژاد امریکی میڈیکل طالبہ نفیہ اکرام پر 2021 میں ہونے والے وحشیانہ تیزاب حملے کا ملزم بالآخر پانچ سال بعد گرفتار کر لیا گیا ہے۔یہ دل دہلا دینے والا واقعہ 17 مارچ 2021 کو پیش آیا جب نفیہ اپنے گھر کی ڈرائیو وے میں داخل ہو رہی تھیں کہ ایک نقاب پوش شخص نے پیچھے سے دوڑ کر ان کے چہرے پر تیزاب پھینک دیا اور فرار ہو گیا۔ اس حملے نے نفیہ کو شدید زخمی کر دیا، ان کی ایک آنکھ کی بینائی تقریباً ختم ہو گئی، چہرے پر گہرے داغ رہ گئے اور گلے تک جلن پہنچی، جس سے وہ آج بھی کھانے پینے اور سانس لینے میں مشکلات کا شکار ہیں۔نیویارک پولیس اور ناساؤ کاؤنٹی حکام نے پانچ سال تک مسلسل تحقیقات جاری رکھیں۔ جدید فرانزک شواہد، ڈیجیٹل ٹریکنگ، کمیونٹی سے ملنے والی ٹپس اور مشتبہ شخص کی اپنی موسیقی میں استعمال کیے گئے اشتعال انگیز بولوں نے بالآخر پولیس کو 29 سالہ ٹیرل کیمبل تک پہنچایا، جو بروکلن کا رہائشی ہے اور خود کو "Yung Based Prince” کے نام سے aspiring ریپر کے طور پر پیش کرتا ہے۔

کیمبل پر دو سنگین الزاماتِ حملہ، ہتھیار رکھنے کا جرم اور زہریلی مواد کی غیر قانونی ملکیت عائد کیے گئے ہیں۔ عدالت میں پیشی کے دوران اس نے الزامات کی تردید کرتے ہوئے نہ guilty plea دیا۔ اگر مجرم ثابت ہوا تو اسے 25 سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ وہ فی الحال بغیر ضمانت کے جیل میں ہے۔ نفیہ، جو اس وقت ہافسٹرا یونیورسٹی کی پری میڈ طالبہ تھیں اور CVS میں کام کرتی تھیں، اب 26 سال کی ہیں۔ یہ گرفتاری ان کی اور ان کے خاندان کی طویل انتظار کی انتہا ہے۔ مسلم کمیونٹی میں اس واقعے نے شدید تشویش پیدا کی تھی اور یہ معاملہ انسانی حقوق اور خواتین کی حفاظت کے حوالے سے اہم بحث کا باعث بنا۔ یہ انصاف کی ایک دیرپا فتح ہے جو ظلم کے خلاف جدوجہد کی علامت بن گئی ہے۔ نفیہ کی ہمت اور پولیس کی ثابت قدمی اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ وقت گزرنے سے انصاف کا راستہ مسدود نہیں ہوتا۔







Discussion about this post