پاکستانی جادوئی اسپنر عثمان طارق کی شاندار گیندبازی نے بھارتی ناقدین کو ششدر کر رکھ دیا ہے، جو آسٹریلیا کے خلاف سیریز کے بعد سے انہیں تنقید کا نشانہ بنائے ہوئے ہیں۔گزشتہ روز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں امریکا کے خلاف سنسنی خیز مقابلے میں عثمان طارق نے تین قیمتی وکٹیں سمیٹ کر پاکستان کی شاندار فتح کا ستارہ بن گئے۔ اس شاندار پرفارمنس کے فوراً بعد ایک عام بھارتی ڈومیسٹک کرکٹر نے ایکس پر عثمان کی دل موہ لینے والی ویڈیو شیئر کی اور فٹبال کی پنالٹی کا خوبصورت موازنہ پیش کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ جیسے دوڑتے ہوئے اچانک رکنا وہاں ممنوع ہے، تو گیند پھینکتے وقت آخری لمحے میں وقفہ لینا کیسے جائز ہو سکتا ہے۔

یہ دلچسپ بحث چھڑی تو بھارت کے اسپنر روی چندرن ایشون نے عثمان طارق کی شاندار حمایت میں میدان میں قدم رکھ دیا۔ ایشون نے اپنے دلکش انداز میں پوچھا کہ جب بیٹسمین بغیر کسی کو آگاہ کیے سوئچ ہٹ یا ریورس سویپ کی خوبصورت آزادی رکھتا ہے، تو پابندیاں صرف بولر پر کیوں جڑی ہوئی ہیں۔ ان کا مزید موہ لینے والا نکتہ یہ تھا کہ بیٹسمین جب ایک طرف سے بیٹنگ کا ارادہ ظاہر کر دے تو کیا اسے مکمل آزادی نہ ملنی چاہیے۔ دوسری طرف بولر کو اپنا ہاتھ تبدیل کرنے سے پہلے امپائر کو ضرور بتانا پڑتا ہے، ایشون نے یہ خوبصورت مثال دے کر کہا کہ پہلے اس قانون کو تبدیل کیا جائے۔ یہ بحث نہ صرف کرکٹ کے اصولوں پر روشنی ڈالتی ہے بلکہ کھیل کی خوبصورتی کو مزید دلنشین بنا رہی ہے۔
Agree football doesn’t allow it!
While the batter can be allowed to switch hit or reverse without informing the umpire or bowler, after him/her commits to start batting on one side, why are the restrictions only limited to the bowler?
In fact the bowler isn’t allowed to change… https://t.co/AOV4OKhwcL
— Ashwin 🇮🇳 (@ashwinravi99) February 11, 2026







Discussion about this post