لاہور کی گلیوں میں بسنت کی رنگین ہوائیں اب بھی گونج رہی ہیں، اور اس جشن کی رونق کو چار چاند لگانے والا ایک شاندار اعلان سامنے آیا ہے۔ وزیرِ ٹرانسپورٹ اینڈ ماس ٹرانزٹ بلال اکبر خان نے بتایا کہ بسنت کے تین جادوئی دنوں میں 20 لاکھ 68ہزار سے زائد شہریوں کو مفت سفر کا تحفہ دیا گیا، جو لاہور کی تاریخ میں ایک سنہری باب کا اضافہ ہے۔ اورنج لائن میٹرو ٹرین نے تو گویا آسمان چھو لیا، جہاں تین دنوں میں 9 لاکھ سے زائد مسافروں نے اس جدید شاہراہِ سفر پر مفت سواری کا لطف اٹھایا، ہر سٹیشن خوشیوں کی لہروں سے جگمگا اٹھا۔ میٹرو بس سروس نے 4 لاکھ سے زیادہ دلوں کو اپنے ساتھ جوڑا، جبکہ سپیڈو نے 5 لاکھ 30 ہزار مسافروں کو تیز رفتار خوشیوں کی سیر کرائی۔ الیکٹرک بسوں نے بھی چالیس ہزار سے زائد لوگوں کو ماحول دوست اور مفت سفر کا مزہ چکھایا۔

یہ اعداد و شمار محض نمبر نہیں، بلکہ لاکھوں چہروں پر مسکراہٹوں کی کہانیاں ہیں۔ دوسری جانب، یہ خوشیوں کا میلہ عالمی سطح پر بھی چھا گیا۔ لاہور میں امریکی ناظم الامور نیٹلی بیکر نے بھی بسنت کے رنگ میں رنگ بھر دیا، بسنت کی روایتی لباس میں ملبوس ہو کر اس تہوار کی خوبصورتی میں شریک ہوئیں، جو ثقافتی پل کی ایک خوبصورت مثال بن گیا۔ بسنت کی یہ خوشبو اب صرف آسمان میں نہیں، بلکہ لاہور کی سڑکوں، بسوں اور دلوں میں بسی ہوئی ہے. ایک ایسا تہوار جو مفت سفر کی نعمت، ثقافتی ہم آہنگی اور حفاظت کے عزم کے ساتھ یادگار بن گیا۔ لاہور نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ خوشیوں کو بانٹنے سے وہ اور بھی گہری ہو جاتی ہیں۔







Discussion about this post