نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے ایک بار پھر عوام کے بجٹ پر بوجھ ڈالتے ہوئے بجلی کی قیمتوں میں اضافے کا اعلان کر دیا ہے، جو دل دہلا دینے والا ہے۔ نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی نے دسمبر 2025 کی ماہانہ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی کو ایک ماہ کے لیے 28 پیسے فی یونٹ مہنگا کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ یہ اضافہ سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کی درخواست پر نیپرا کی سماعت کے بعد منظور کیا گیا۔ سی پی پی اے نے ابتدائی طور پر 48 پیسے فی یونٹ اضافے کی تجویز دی تھی، مگر نیپرا نے دلائل، دستاویزات اور ریکارڈ کا گہرا جائزہ لینے کے بعد اسے جزوی طور پر منظور کرتے ہوئے صرف 28 پیسے فی یونٹ (یعنی تقریباً 0.28 روپے) تک محدود کر دیا۔ یہ اضافہ KE اور تمام ایکس واپڈا ڈسکوز کے صارفین پر لاگو ہو گا، البتہ لائف لائن صارفین، الیکٹرک وہیکل چارجنگ سٹیشنز اور بعض دیگر مخصوص کیٹیگریز کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔ یہ فیول لاگت کی تبدیلی دسمبر کے مہینے میں بجلی کی پیداوار کی لاگت میں اضافے کی وجہ سے سامنے آئی ہے، جہاں پیداواری لاگت ریفرنس سے زیادہ رہی۔ اب یہ اضافہ رواں ماہ فروری 2026 کے بجلی بلوں میں نظر آئے گا، جس سے گھریلو بجٹ مزید سکڑ جائے گا اور عام آدمی کی مشکلات میں اضافہ ہو گا۔ یہ اضافہ ایک ماہ تک محدود ہے، مگر یہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ توانائی کے شعبے میں فیول کی اتار چڑھاؤ کی قیمت بالآخر صارفین ہی ادا کرتے ہیں۔ نیپرا کا یہ فیصلہ شفافیت اور احتساب کی ایک کڑی ہے، مگر عوام کے لیے یہ ایک اور مشکل کا اضافہ ہے۔ امید ہے کہ مستقبل میں ایسی ایڈجسٹمنٹس کم ہوں گی اور سستی بجلی کا خواب حقیقت بنے گا، تاکہ ہر گھر کی روشنی بغیر بوجھ کے جگمگا سکے۔







Discussion about this post