لیبیا کے سابق رہنما معمر قذافی کے بیٹے، سیف الاسلام قذافی، کو قتل کر دیا گیا ہے، اور یہ خبر قذافی خاندان کے قریبی ذرائع نے تصدیق کر دی ہے۔عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق سیف الاسلام پر چار افراد نے حملہ کیا، انہیں باغ میں گولی مار دی گئی اور ملزمان فوری طور پر فرار ہو گئے۔ لیبیا کی سرکاری خبر رساں ایجنسی لانا نے ان کے مشیر عبداللّٰہ عثمان کے حوالے سے سیف الاسلام کی موت کی تصدیق کی ہے۔سیف الاسلام قذافی کو طویل عرصے تک اپنے والد معمر قذافی کا جانشین سمجھا جاتا رہا اور وہ لیبیا کی سیاسی زندگی میں ایک نمایاں شخصیت تھے۔

انہوں نے لندن اسکول آف اکنامکس سے تعلیم حاصل کی اور روانی سے انگریزی بولنے کی مہارت کے باعث مغربی دنیا میں ایک قابلِ قبول اور مغرب دوست چہرہ سمجھے جاتے تھے۔ تاہم 2011 میں، اپنے والد کے دور حکومت میں، باغیوں کے خلاف کیے جانے والے کریک ڈاؤن کی قیادت کے الزامات بھی ان پر عائد کیے گئے۔ بین الاقوامی فوجداری عدالت نے سیف الاسلام کے خلاف قتل اور ظلم و ستم کے الزامات پر گرفتاری کا وارنٹ جاری کیا تھا۔2015 میں، غیر حاضری میں، ان کے کردار کی بنیاد پر انہیں سزائے موت سنائی گئی تھی، جو ان کی سیاسی زندگی کی پیچیدگیوں اور تنازعوں کی عکاسی کرتی ہے۔







Discussion about this post