وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ نے جمعرات کے روز واضح کیا ہے کہ اڈیالہ جیل میں قید پاکستان تحریک انصاف کے بانی کو آنکھوں کے ماہر ڈاکٹروں کی سفارش پر گزشتہ ہفتے کی شب مختصر مدت کے لیے پمز ہسپتال منتقل کیا گیا تھا، جہاں محدود طبی کارروائی کے بعد انہیں دوبارہ جیل واپس لے جایا گیا۔ اس پیش رفت پر پی ٹی آئی کی جانب سے تشویش کا اظہار بھی سامنے آیا ہے۔ بانی پی ٹی آئی اگست 2023 سے حراست میں ہیں اور اس وقت راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں 190 ملین پاؤنڈ کرپشن کیس میں سزا کاٹ رہے ہیں، جبکہ 9 مئی 2023 کے واقعات سے متعلق انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت قائم مقدمات بھی عدالتوں میں زیرِ سماعت ہیں۔ پی ٹی آئی کی جانب سے ماضی میں متعدد بار اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات پر عدم اطمینان ظاہر کیا جا چکا ہے۔ رواں ہفتے ایک بار پھر خدشات سامنے آئے کہ انہیں آنکھوں کی سنگین بیماری سنٹرل ریٹائنل وین اوکلوژن لاحق ہو سکتی ہے، جس پر شوکت خانم ہسپتال کی انتظامیہ نے ان کے طبی معائنے اور رسائی کی اجازت کے لیے باضابطہ درخواست دی۔ اس صورتحال کے بعد سوشل میڈیا پر بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق مختلف قیاس آرائیاں گردش کرنے لگیں۔
آنکھوں کے طبی ماہرین نے اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی کی آنکھوں کا معائنہ کیا۔ طبی ماہرین کی تجویز پر اُنکو آنکھوں کے معائنے اورمعمولی طبی کارروائی کیلئے گذشتہ ہفتہ کی رات پمز لے جایا گیا۔ جہاں اُنکی تحریری رضامندی کے بعد تقریبا 20 منٹ کی طبی کارروائی ہوئی جس کے بعد اُنہیں واپس… pic.twitter.com/iT5bkyc5nS
— Attaullah Tarar (@TararAttaullah) January 29, 2026
تاہم وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان خدشات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بانی پی ٹی آئی مکمل طور پر صحت مند ہیں اور ان کی طبی حالت تسلی بخش ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اڈیالہ جیل میں موجود آنکھوں کے ماہر ڈاکٹروں نے بانی پی ٹی آئی کا معائنہ کیا، جس کے بعد ایک معمول کی طبی کارروائی کے لیے پمز ہسپتال منتقل کرنے کی تجویز دی گئی۔ وفاقی وزیر کے مطابق گزشتہ ہفتے رات گئے انہی ڈاکٹروں کی سفارش پر بانی پی ٹی آئی کو پمز ہسپتال لے جایا گیا، جہاں مزید معائنے کے بعد ان کی تحریری رضامندی سے تقریباً بیس منٹ کی طبی کارروائی کی گئی، جس کے بعد ضروری ہدایات دے کر انہیں دوبارہ اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا۔






Discussion about this post