کراچی کے مشہور اور مصروف تجارتی مرکز گل پلازہ میں پیش آنے والی المناک آتشزدگی کی حتمی تحقیقاتی رپورٹ مکمل کر لی گئی ہے، جس میں آگ لگنے کی وجوہات، پھیلاؤ، فائر بریگیڈ اور ریسکیو آپریشنز کے ردعمل سمیت تمام اہم پہلوؤں کی تفصیل موجود ہے۔ کمشنر کراچی کی تیار کردہ یہ رپورٹ وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کو پیش کی جائے گی، جس میں اس افسوسناک حادثے میں 79 افراد کی جانوں کے ضیاع کی تصدیق کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق آگ 17 جنوری کی رات 10 بج کر 15 منٹ پر گراؤنڈ فلور کی ایک پھولوں کی دکان سے شروع ہوئی، جہاں ایک بچے کے ہاتھوں حادثاتی طور پر شعلے بھڑک اُٹھے۔ آگ نے بعد ازاں ائرکنڈیشن ڈکٹس کے ذریعے تیزی سے پلازہ کے دیگر حصوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ فائر بریگیڈ کو اطلاع رات 10 بج کر 26 منٹ پر موصول ہوئی، اور پہلا فائر ٹینڈر 11 منٹ کے اندر 10 بج کر 37 منٹ پر موقع پر پہنچ گیا۔ ڈپٹی کمشنر جنوبی کراچی 10 بج کر 30 منٹ پر پہنچے جبکہ ریسکیو 1122 کا عملہ 10 بج کر 53 منٹ پر جائے وقوعہ پر موجود تھا۔ تحقیق کے مطابق زیادہ تر ہلاکتیں میزنائن فلور پر ہوئیں، جہاں دھواں اور شعلے تیزی سے پھیلنے کی وجہ سے لوگ پھنس گئے۔ اس رپورٹ میں متاثرین، عینی شاہدین اور ریسکیو اہلکاروں کے بیانات کو بھی شامل کیا گیا ہے تاکہ حادثے کے تمام پہلوؤں کا جامع جائزہ لیا جا سکے۔ کمشنر کراچی اور ایڈیشنل آئی جی کی سربراہی میں بنائی گئی تحقیقاتی کمیٹی نے فائر فائٹنگ، ریسکیو آپریشن اور امدادی سرگرمیوں کا تفصیلی جائزہ پیش کیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ رپورٹ آئندہ کے لائحہ عمل، ذمہ داروں کے تعین اور مستقبل میں ایسے حادثات کی روک تھام کے لیے بنیاد فراہم کرے گی۔






Discussion about this post