امریکی کسٹمز اینڈ بارڈر پروٹیکشن کی حالیہ رپورٹ نے ایک تشویشناک رجحان کو بے نقاب کر دیا ہے، جس کے مطابق بھارتی شہریوں کی جانب سے غیر قانونی طور پر امریکہ میں داخل ہونے کی کوششوں میں نمایاں اور مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ امریکی حکام کے یہ اعداد و شمار نہ صرف سرحدی سلامتی پر سوالات اٹھا رہے ہیں بلکہ عالمی سطح پر سیکیورٹی خدشات کو بھی جنم دے رہے ہیں، جن کی تصدیق بھارتی اخبار ٹائمز آف انڈیا نے بھی کر دی ہے۔

رپورٹ کے مطابق صرف سال 2025 میں تقریباً چوبیس ہزار بھارتی شہری غیر قانونی طور پر امریکی سرحد عبور کرنے کی کوشش کے دوران گرفتار کیے گئے۔ اس سے ایک سال قبل صورتحال اس سے بھی زیادہ سنگین تھی، جب 2024 میں پچاسی ہزار سے زائد بھارتی شہری سرحدی حکام کی تحویل میں آئے، جو اس رجحان میں خطرناک اضافے کی واضح علامت ہے۔ بھارتی میڈیا کے تجزیوں میں بتایا گیا ہے کہ گرفتار افراد کی اکثریت بہتر روزگار، بلند تنخواہوں اور معاشی استحکام کی امید میں غیر قانونی راستوں کا انتخاب کر رہی تھی۔ ماہرین کے مطابق بھارت میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری، مہنگائی اور ناکام امیگریشن حکمتِ عملی نے ہزاروں افراد کو اپنی جان خطرے میں ڈالنے پر مجبور کر دیا ہے۔

بین الاقوامی مبصرین کا کہنا ہے کہ انسانی اسمگلنگ سے وابستہ بھارتی نیٹ ورکس نے اب سخت نگرانی والے روایتی راستوں سے ہٹ کر ایسے غیر معروف اور پرخطر راستے اختیار کر لیے ہیں جو نہ صرف جان لیوا ہیں بلکہ منظم جرائم کے پھیلاؤ کا باعث بھی بن رہے ہیں۔ ان راستوں کے ذریعے سفر کے دوران متعدد افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں، جبکہ اسمگلنگ مافیا مضبوط ہوتی جا رہی ہے۔عالمی سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ غیر قانونی بھارتی امیگریشن، انسانی اسمگلنگ، جعلی ڈگریوں اور دستاویزات کے نیٹ ورکس اور سرحد پار جرائم کا یہ بڑھتا ہوا سلسلہ بین الاقوامی سلامتی کے لیے ایک سنجیدہ چیلنج بنتا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر بھارت میں معاشی حالات اور روزگار کے مواقع بہتر نہ ہوئے تو آنے والے برسوں میں یہ بحران مزید گہرا ہو سکتا ہے۔







Discussion about this post