ملک کے بالائی علاقوں میں سردی نے ایک نئی شدت اختیار کر لی ہے اور برفباری نے زندگی کے معمولات کو بری طرح متاثر کر دیا ہے۔ آزاد کشمیر، خیبرپختونخوا اور گلگت بلتستان کے کئی اضلاع میں کئی فٹ برف پڑ چکی ہے، جس کے باعث رابطہ سڑکیں بند، بجلی کا نظام درہم برہم اور لوگ محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔ متعدد مقامات پر لینڈ سلائیڈنگ اور برفانی تودے گرنے کے خطرات نے مقامی زندگی کو اور بھی مشکل بنا دیا ہے، تاہم پاک فوج اور سول انتظامیہ نے ہر مشکل لمحے میں ریسکیو اور امدادی کارروائیوں کو جاری رکھا ہے۔
Muree pic.twitter.com/CU63OfSAHI
— Ghazanfar Abbas (@ghazanfarabbass) January 23, 2026
آزاد کشمیر میں شدید برفباری نے وادی نیلم، اپر نیلم، سدھنوتی، باغ اور ہٹیاں بالا جیسے علاقوں میں معمولات زندگی کو مفلوج کر دیا ہے۔ ضلع حویلی میں برف میں پھنسنے والی ایمبولینس سمیت تقریباً 25 گاڑیاں، خواتین اور بچوں سمیت 100 افراد کے ساتھ، شدید مشکلات کا شکار ہو گئیں۔ پاک فوج نے انتہائی دشوار موسمی حالات میں بروقت ریسکیو آپریشن کرتے ہوئے 32 مسافروں کو محفوظ مقام پر منتقل کیا، اور ایک ایمبولینس میں موجود دو میتیں بھی بحفاظت نکال لی گئیں، جس پر لواحقین نے پاک فوج کی ہمت اور مہارت کو سراہا۔ مظفرآباد میں کئی سال بعد برفباری کا منظر دیکھنے کو ملا، جبکہ وادی نیلم میں شدید برفباری کے باعث دو مکانات منہدم ہو گئے، مگر خوش قسمتی سے کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ برفانی حالات اور لینڈ سلائیڈنگ نے اہم شاہراہوں کو بند کر دیا، جس سے مقامی آبادی اور مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ شدید برفباری اور تیز ہواؤں کے باعث آزاد کشمیر میں بجلی کا نظام بھی درہم برہم ہو گیا، کئی پولز گر گئے اور تاریں ٹوٹ گئیں، جس سے گزشتہ 24 گھنٹوں سے بجلی کی فراہمی معطل ہے۔ حکام کے مطابق موسم بہتر ہوتے ہی بحالی کا کام شروع کیا جائے گا۔ خیبرپختونخوا کے بالائی علاقوں میں وقفے وقفے سے برفباری جاری ہے۔ وادی کاغان میں رابطہ سڑکیں بند ہونے کے بعد سیاحوں کے داخلے پر پابندی عائد کر دی گئی، جبکہ دیربالا، کمراٹ اور لواری ٹنل میں شدید برفباری کے باعث آمدورفت معطل ہو گئی ہے۔ برف جمنے اور پھسلن کی وجہ سے مقامی آبادی اور مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے، اور بعض علاقوں میں اشیائے خورونوش کی قلت کا خدشہ بھی ہے۔
رات 8 بجے مری کی صورتحال
مری کا سفر کرنے سے گریز کریں pic.twitter.com/kooaE8ofte— صحرانورد (@Aadiiroy2) January 23, 2026
ملاکنڈ میں کئی سال بعد برفباری نے شہر کی خوبصورتی کو اور بھی دلکش بنا دیا، لیکن تیز ہواؤں اور برف کے وزن کی وجہ سے درخت سڑکوں پر گر گئے، جس سے ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی۔ انتظامیہ نے فوری طور پر راستے کھولنے اور درخت ہٹانے کا کام شروع کر دیا۔ ضلع خیبر اور شانگلہ میں ریسکیو آپریشن جاری ہیں۔ پھنسے ہوئے افراد کو عارضی رہائش اور ضروری سہولیات فراہم کی گئی ہیں، جبکہ شانگلہ ٹاپ میں 22 گھنٹوں سے برف میں پھنسے 4 سیاحوں کو کامیاب ریسکیو آپریشن کے بعد محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا۔گلگت بلتستان میں شدید برفباری نے صورتحال کو اور بھی سنگین کر دیا ہے۔ چلاس اور اپر کوہستان میں برفباری اور لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے شاہراہ قراقرم کئی مقامات پر بند ہے، جس سے سیکڑوں مسافر اور مال بردار گاڑیاں پھنس گئی ہیں اور اشیائے ضروریہ کی ترسیل متاثر ہو رہی ہے۔
مری کی صورتحال pic.twitter.com/AvpHWGmDU7
— Zahid Gishkori (@ZahidGishkori) January 23, 2026
استور میں نظامِ زندگی مکمل طور پر مفلوج ہو چکا ہے، راما میڈوز، دیوسائی، نانگا پربت اور برزل ٹاپ میں 5 سے 6 فٹ تک برف جمع ہو چکی ہے۔ مشرف چوک میں برفانی تودہ گرنے سے سڑک بند ہو گئی، جسے کھولنے کے لیے بھاری مشینری طلب کی گئی ہے۔ ہنزہ، نگر اور چیپورسن میں بھی رابطہ سڑکیں بند ہیں، اور مقامی آبادی شدید مشکلات کا سامنا کر رہی ہے۔
کرک کے دور افتادہ علاقے گرگری اور بشی میں 80 سال بعد ریکارڈ برفباری ۔۔ برفباری اور سرد ہواؤں کے باعث ٹمپریچر منفی چار تک گر گیا pic.twitter.com/AX3UfUjDNO
— Ghazanfar Abbas (@ghazanfarabbass) January 23, 2026
زلزلہ متاثرین کو خیموں میں سخت سردی اور مسلسل برفباری کے باوجود محفوظ رکھا گیا ہے، جبکہ امدادی ادارے متبادل راستوں اور فضائی ذرائع کے ذریعے ضروری سامان پہنچانے کے لیے متحرک ہیں۔ انتظامیہ، ریسکیو ادارے اور پاک فوج ہر لمحے الرٹ ہیں۔ شہریوں اور سیاحوں کو غیر ضروری سفر سے گریز، موسمی صورتحال سے باخبر رہنے اور انتظامیہ کی ہدایات پر عمل کرنے کی سخت ہدایت دی گئی ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق بالائی علاقوں میں آئندہ چند روز تک شدید سردی اور برفباری کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان ہے، جس سے حالات مزید سنگین ہو سکتے ہیں۔







Discussion about this post