تحقیقاتی حکام نے سانحہ گل پلازا کے حوالے سے ابتدائی رپورٹ تیار کر لی ہے، جس کے مطابق آگ گل پلازا کی ایک دکان میں لگی، جہاں مصنوعی پھولوں کے سامان کے درمیان بچے کھیل رہے تھے۔ ذرائع کے مطابق ممکنہ طور پر بچے ماچس یا لائٹر سے کھیل رہے تھے، جس سے آگ ابتدائی طور پر دکان کے سامان میں لگی اور پھر عمارت کے بجلی کے تاروں تک پھیل گئی۔ ڈپٹی کمشنر جنوبی جاوید نبی کھوسو کا کہنا ہے کہ آگ شارٹ سرکٹ کی وجہ سے نہیں لگی۔ جیسے ہی آگ بھڑکی، عمارت میں موجود افراد خارجی راستوں کی طرف بھاگے، لیکن عمارت کے دروازے بند ہونے کی وجہ سے شدید بھگدڑ مچی۔ عمارت میں زیادہ تر دکانیں کھلی تھیں، اور چھت کے راستے پر بھی گرل نصب تھی، جس کی وجہ سے آگ تیزی سے پھیلی۔ آگ لگنے سے عمارت کا سی سی ٹی وی سسٹم بھی مکمل طور پر متاثر ہوا۔ تحقیقاتی ذرائع کے مطابق عینی شاہدین اور متاثرین کے بیانات حاصل کیے جا چکے ہیں، اور ڈپٹی کمشنر تحقیقات کر رہے ہیں کہ عمارت کے دروازے کیوں بند تھے۔ جاوید نبی کھوسو نے میڈیا کو بتایا کہ ریسکیو اہلکار دوبارہ عمارت میں داخل ہو کر سرچ کر رہے ہیں، لیکن مشینری کے استعمال سے عارضی طور پر ملبہ ہٹانے کا کام روک دیا گیا ہے تاکہ عمارت کے گرنے کا خطرہ نہ پیدا ہو۔گل پلازا کے صدر تاجر ایسوسی ایشن نے بتایا کہ احتیاطاً عمارت کی بجلی بند کر دی گئی تھی۔ ڈپٹی کمشنر کے مطابق ملبہ ہٹنے کے بعد گرنے والے حصوں میں دوبارہ سرچ کی جائے گی۔ اب تک 55 سے 60 کے قریب لاشیں نکالی جا چکی ہیں، اور اہل خانہ کے ڈی این اے سیمپلز لیے جا رہے ہیں، جبکہ بعض اعضاء کے ڈی این اے کی تصدیق مشکل ہے۔







Discussion about this post