وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے معیشت کی اصل تصویر کھینچتے ہوئے واضح کیا ہے کہ قومی خزانے پر سب سے بھاری دباؤ قرضوں پر ادا کیا جانے والا سود ہے، جبکہ ماضی میں سرکاری ادارے ناقص حکمرانی کے باعث سالانہ خطیر رقم نگلتے رہے۔ پاکستان پالیسی ڈائیلاگ سے خطاب میں انہوں نے بتایا کہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی رقوم میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، اور رواں مالی سال میں ترسیلاتِ زر ایک نئی بلند سطح کو چھونے والی ہیں، جو ملکی معیشت کے لیے امید افزا پیغام ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے اصلاحات کو محض نعرہ نہیں بلکہ عملی ہدف بنا لیا ہے۔ ادارہ جاتی ڈھانچے کی بہتری، ایف بی آر کی ازسرِنو تشکیل اور ٹیکس نظام کو مؤثر بنانے کے لیے سخت مگر ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں، تاکہ معیشت کو پائیدار بنیادیں فراہم کی جا سکیں۔ توانائی کے شعبے میں بھی بگاڑ کو درست کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ وزیر خزانہ نے بتایا کہ قومی ایئرلائن کی نجکاری کے عمل میں نہ صرف بیرونی بلکہ مقامی سرمایہ کار بھی دلچسپی لے رہے ہیں، جبکہ دو درجن سے زائد سرکاری ادارے نجکاری کمیشن کے سپرد کیے جا چکے ہیں۔ ان کے مطابق یہ ادارے برسوں سے قومی خزانے پر بوجھ بنے ہوئے تھے اور ہر سال بے تحاشا مالی نقصان کا سبب بن رہے تھے، اسی لیے یوٹیلٹی اسٹورز، پی ڈبلیو ڈی اور پاسکو جیسے اداروں کو بند کرنے کا مشکل مگر ناگزیر فیصلہ کیا گیا۔ محمد اورنگزیب نے زور دیا کہ حد سے زیادہ ڈیوٹیز معیشت کی رفتار کو سست کر دیتی ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ ٹیکس اور ڈیوٹی کا نظام ایسا ہو جو کاروبار کو سہارا دے، نہ کہ اسے مزید دباؤ میں لے آئے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ قرضوں پر سود کی ادائیگی حکومت کے اخراجات میں سرفہرست ہے، تاہم دانشمندانہ مالی حکمتِ عملی کے ذریعے گزشتہ برس اس مد میں بھاری بچت کی گئی، اور موجودہ مالی سال میں بھی اخراجات کو مزید قابو میں رکھنے کا ارادہ ہے۔

وفاقی وزیر خزانہ نے اعلان کیا کہ حکومت جلد ہی پانڈا بانڈز متعارف کرانے جا رہی ہے، جسے عالمی مالیاتی منڈیوں میں پاکستان کے اعتماد کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق حالیہ سرویز سے ظاہر ہوتا ہے کہ سرمایہ کاروں کی ایک بڑی تعداد پاکستان کو سرمایہ کاری کے لیے موزوں سمجھتی ہے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ تجارتی خسارے میں اضافہ ہوا ہے، مگر ساتھ ہی یہ اطمینان بھی دلایا کہ کرنٹ اکاؤنٹ توازن کے اندر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مالی سال کی ابتدائی سہ ماہی میں بڑی صنعتوں کی کارکردگی نے مثبت رجحان دکھایا، جبکہ نجی شعبے کو فراہم کیے جانے والے قرضوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ محمد اورنگزیب کے مطابق اسٹاک مارکیٹ میں نئے سرمایہ کاروں کی آمد نے مارکیٹ کو نئی توانائی دی ہے، اور گزشتہ ڈیڑھ سال میں سرمایہ کاری کا حجم غیر معمولی طور پر بڑھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نوجوان صلاحیتوں سے مالا مال ہے اور دنیا کی بڑی فری لانسر کمیونٹی میں اس کا شمار ہوتا ہے۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ ان نوجوانوں کو درست سمت، مؤثر نظام اور جدید پلیٹ فارم فراہم کرے۔ آخر میں وزیر خزانہ نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ اگر پاکستان کو 2047 تک ایک مضبوط اور بڑی معیشت بنانا ہے تو آبادی کے بے قابو اضافے پر سنجیدگی سے قابو پانا ہوگا، کیونکہ تیز رفتار آبادی میں اضافے کے ساتھ پائیدار ترقی کا خواب حقیقت نہیں بن سکتا۔







Discussion about this post