تار
English
  • پاکستان
  • جہاں نامہ
  • صنف
  • ادب
  • اینٹرٹینمٹ
  • ویڈیوز
  • کھیل
  • کاروبار
  • صحافت
  • تجزیئے
No Result
View All Result
  • پاکستان
  • جہاں نامہ
  • صنف
  • ادب
  • اینٹرٹینمٹ
  • ویڈیوز
  • کھیل
  • کاروبار
  • صحافت
  • تجزیئے
No Result
View All Result
No Result
View All Result
تار

ایران میں مظاہرے تھم گئے

by ویب ڈیسک
جنوری 14, 2026
aptopix iran protest
Share on FacebookShare on Twitter

ایران میں پچھلے دو ہفتوں سے جاری شدید ہنگامہ خیزی بالآخر دم توڑ گئی ہے، اور طویل اضطراب کے بعد اب مختلف شہروں میں زندگی آہستہ آہستہ اپنی معمول کی رفتار کی طرف لوٹتی دکھائی دے رہی ہے۔ سڑکوں پر سناٹا کم ہو رہا ہے، خوف کی فضا میں کچھ کمی آئی ہے، مگر بے یقینی ابھی باقی ہے۔ احتجاجی لہر کے تھمنے کے بعد بین الاقوامی فون کالز کی بحالی نے لوگوں کو اپنوں کی آواز سننے کا موقع تو دیا ہے، تاہم ڈیجیٹل دنیا سے جڑنے والا دروازہ اب بھی بند ہے، کیونکہ ملک بھر میں انٹرنیٹ سروس بدستور معطل ہے۔ اسی دوران ایک امریکی انسانی حقوق تنظیم نے چونکا دینے والا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ حالیہ مظاہروں کے دوران دو ہزار چار سو سے زائد افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ یہ اعداد و شمار سامنے آتے ہی ایک نئی بحث نے جنم لے لیا ہے۔ ایرانی حکام نے ان دعوؤں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے مؤقف اپنایا ہے کہ حقائق کو جان بوجھ کر بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے تاکہ عالمی رائے عامہ کو گمراہ کیا جا سکے۔ دوسری طرف ایرانی انٹیلی جنس اداروں کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی آپریشنز کے دوران مختلف رہائشی علاقوں سے امریکی ساختہ اسلحہ اور دھماکہ خیز مواد برآمد ہوا ہے، جو ان کے بقول اندرونی بدامنی میں بیرونی ہاتھ کا واضح اشارہ ہے۔ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے واشنگٹن کو دو ٹوک پیغام دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی ممکنہ فوجی مہم جوئی کا جواب ایران مکمل طاقت کے ساتھ دے گا، اور اس کے لیے ہر سطح پر تیاری موجود ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت نے ابتدا میں مہنگائی کے خلاف اٹھنے والی عوامی آواز کو جائز سمجھتے ہوئے مظاہرین سے بات چیت کا راستہ اپنایا، مگر بعد ازاں ایک منظم منصوبے کے تحت حالات کو جان بوجھ کر پُرتشدد رخ دیا گیا، تاکہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو مداخلت کا جواز مل سکے۔عباس عراقچی نے دعویٰ کیا کہ ان کے پاس ایسے ٹھوس شواہد موجود ہیں جو یہ ظاہر کرتے ہیں کہ بیرونِ ملک موجود شدت پسند عناصر کو ایران کے اندر بدامنی پھیلانے کی ہدایات دی گئیں۔ انہوں نے اس تاثر کو بھی رد کیا کہ امریکا اس وقت کسی سنجیدہ یا منصفانہ مذاکرات کے موڈ میں ہے، بلکہ موجودہ رویہ محاذ آرائی کو بڑھا رہا ہے۔

جرمن چانسلر کے بیان پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ انسانی حقوق پر وعظ کے لیے برلن سے زیادہ ناموزوں جگہ کوئی نہیں ہو سکتی۔ ان کے مطابق جرمنی نے نہ وینزویلا کے صدر کے مبینہ اغوا پر آواز اٹھائی، نہ ہی غزہ میں ہزاروں فلسطینیوں کی ہلاکت پر کوئی مؤثر موقف اپنایا، ایسے میں انسانی حقوق کی بات محض دوہرا معیار ہے۔ ادھر ایران میں اطلاعات کے شدید بحران کے دوران ایک غیر متوقع پیش رفت سامنے آئی، جب ٹیسلا اور اسپیس ایکس کے بانی ایلون مسک نے ایران میں اسٹارلنک سیٹلائٹ انٹرنیٹ مفت فراہم کرنے کا اعلان کر دیا۔ امریکی میڈیا کے مطابق اسپیس ایکس نے ایران میں موجود مگر غیر فعال اسٹارلنک اکاؤنٹس کو دوبارہ چالو کر دیا ہے، جبکہ صارفین سے سبسکرپشن فیس بھی وقتی طور پر وصول نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ کی بندش کے باعث درست معلومات تک رسائی تقریباً ناممکن ہو چکی تھی، جس کے بعد سیٹلائٹ انٹرنیٹ کو ایک متبادل مواصلاتی ذریعہ کے طور پر فعال کیا گیا۔ اس سہولت کے ذریعے کئی علاقوں میں رابطے بحال ہو گئے ہیں، اور طویل خاموشی کے بعد لوگ ایک بار پھر دنیا سے جڑنے لگے ہیں۔ رپورٹس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ایرانی حکام نے بعض مقامات پر سگنلز کو جام کرنے کے لیے خصوصی آلات نصب کیے، تاہم اس کے باوجود بیشتر علاقوں میں اسٹارلنک سروس کسی نہ کسی حد تک قابلِ استعمال رہی۔ یہ قدم خاص طور پر ان شہریوں کے لیے امید کی کرن بن کر سامنے آیا ہے، جو روایتی نیٹ ورکس کی بندش کے باعث مکمل طور پر کٹ چکے تھے۔ ذرائع کے مطابق اسٹارلنک کی مفت فراہمی کا فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب ڈونلڈ ٹرمپ اور ایلون مسک کے درمیان حالیہ دنوں میں ٹیلیفونک رابطہ ہوا، جس میں ایران کی صورتحال پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ ایران نے اس اقدام پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ ٹرمپ سیاسی عدم استحکام اور تشدد کو ہوا دے رہے ہیں۔

اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر امیر سعید ایروانی نے سلامتی کونسل کو ایک خط ارسال کیا، جس میں کہا گیا کہ ٹرمپ کے بیانات اور اقدامات ایران کی قومی سلامتی کے لیے براہِ راست خطرہ بن چکے ہیں۔ ایرانی سفیر کا کہنا تھا کہ امریکا اور اسرائیل کی پالیسیوں کے نتیجے میں عام شہری جانوں سے ہاتھ دھو رہے ہیں، جبکہ اصل مقصد خطے میں عدم استحکام پیدا کرنا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ امریکا فوجی مداخلت کے لیے ماحول تیار کر رہا ہے اور اس کی حکمت عملی کا حتمی ہدف نظام کی تبدیلی ہے۔اسی تناظر میں ایرانی رہنما علی لاریجانی نے سخت الفاظ میں کہا کہ ایرانی عوام کے خون کے اصل ذمہ دار ٹرمپ اور نیتن یاہو ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پابندیاں، دھمکیاں اور انتشار سب ایک منصوبے کا حصہ ہیں، مگر ایران کے خلاف یہ سازش پہلے بھی ناکام ہوئی تھی اور آئندہ بھی کامیاب نہیں ہو سکے گی۔

Previous Post

ایرانی خواتین کو سیاسی مستقبل کے تعین کا حق دیا جائے

Next Post

خیبرپختونخوا : سیاسی شخصیات کے نام پر فینسی نمبر پلیٹس متعارف کرانے کا فیصلہ

Next Post
traffic 2

خیبرپختونخوا : سیاسی شخصیات کے نام پر فینسی نمبر پلیٹس متعارف کرانے کا فیصلہ

Discussion about this post

تار نامہ

iran 4

امریکی ٹی وی کی ایران کی بڑی جنگی کامیابیوں کی تصدیق

اگست میں بنگلہ دیش کی 2 کرکٹ  ٹیمیں آئیں گی

پاکستان کے خلاف ون ڈے سیریز، بنگلہ دیش اسکواڈ کا اعلان

iran school 2

ایران میں اسکول پر حملہ امریکی فوج نے کیا، تحقیقات میں انکشاف

امریکا : اب مسافروں کو جوتے اتارنے کی ضرورت نہیں ہوگی

دو لاکھ سے زائد امریکی شہری مشرق وسطیٰ میں پھنس گئے

trump 2

سب سے پہلے ایران کو ختم کرنا چاہتے ہیں

تار

  • ہمارے بارے میں
  • پرائیویسی پالیسی

No Result
View All Result
  • پاکستان
  • جہاں نامہ
  • صنف
  • ادب
  • اینٹرٹینمٹ
  • ویڈیوز
  • کھیل
  • کاروبار
  • صحافت
  • تجزیئے

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist