سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے انکشاف کیا ہے کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے دورے سے قبل سیکیورٹی خدشات موجود تھے، جن سے متعلق بروقت آگاہ بھی کر دیا گیا تھا۔ کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے شرجیل انعام میمن نے کہا کہ ممکنہ خطرات کے پیش نظر باقاعدہ سیکیورٹی پلان ترتیب دیا گیا تھا، مگر طے شدہ روٹس اور مقامات کے برعکس دورے کیے گئے، جس سے صورتحال پیچیدہ ہو گئی۔ انہوں نے بتایا کہ صوبائی وزیر ناصر شاہ نے پی ٹی آئی رہنماؤں سے رابطہ کر کے ان سے مکمل پروگرام حاصل کیا تھا اور پہلے ہی دن واضح طور پر نشاندہی کر دی گئی تھی کہ کن علاقوں میں جانا محفوظ ہے اور کن مقامات پر سیکیورٹی خدشات موجود ہیں۔ شرجیل انعام میمن کے مطابق ان ہدایات کے باوجود حالات کو نظر انداز کیا گیا، جس کے نتیجے میں پولیس پر پتھراؤ، میڈیا کی گاڑیوں کو نقصان اور صحافیوں کے ساتھ بدسلوکی جیسے افسوسناک واقعات پیش آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیکیورٹی کی نازک صورتحال کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے بدنظمی پیدا کرنے کی کوشش کی گئی۔ سینئر وزیر نے کہا کہ حکومت نے جلسے کی اجازت دی تو چند ہی منٹ بعد یہ بیان سامنے آیا کہ جلسہ نہیں کیا جائے گا۔ تمام معاملات خوشگوار ماحول میں طے پائے تھے، تاہم سیکیورٹی اداروں کی ہدایات کے باوجود ضلع وسطی کا رخ کیا گیا، جو واضح طور پر وعدہ خلافی تھی۔

انہوں نے بتایا کہ اگلے روز حیدرآباد کے دورے کے لیے مکمل سیکیورٹی انتظامات کیے گئے تھے، مگر اس کے باوجود حالات کو غیر ضروری طور پر کشیدہ کرنے کی کوشش کی گئی۔ شرجیل انعام میمن نے کہا کہ 9 مئی جیسی صورتحال پیدا کرنے کی کوشش کی گئی، تاہم سندھ حکومت نے انتہائی تحمل اور ذمہ داری کا مظاہرہ کیا اور کسی بھی سیاسی رہنما کے خلاف ایف آئی آر درج نہیں کی گئی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ سندھ کابینہ کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں کئی اہم فیصلے کیے گئے۔ کابینہ نے این ای ڈی یونیورسٹی میں طالبات کے لیے ہاسٹل کی تعمیر کے لیے فنڈز کی منظوری دی، جبکہ سکھر اور حیدرآباد سمیت مختلف شہروں میں گرجا گھروں کی بحالی کے لیے بھی رقم مختص کی گئی ہے۔







Discussion about this post