کراچی میں شہریوں کو پانی گھروں تک پہنچانے کے حوالے سے بڑی تبدیلی کا اعلان سامنے آیا ہے۔ کے ایم سی حکام کے مطابق شہر میں ٹینکرز اور ہائیڈرنٹس کے ذریعے پانی کی فراہمی ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے، جبکہ میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے واٹر کارپوریشن کے اعلیٰ حکام کو متبادل نظام کے فوری نفاذ کی ہدایت دے دی ہے۔ میئر مرتضیٰ وہاب کا کہنا ہے کہ شہر کے تمام سات ہائیڈرنٹس کو بتدریج ختم کر کے پانی کی فراہمی براہِ راست لائنوں کے ذریعے یقینی بنائی جائے گی، تاکہ شہریوں کو ٹینکرز پر انحصار کم سے کم کرنا پڑے۔ انہوں نے واضح کیا کہ واٹر ہائیڈرنٹس کے کنٹریکٹ گزشتہ سال ختم ہو چکے ہیں، نئے کنٹریکٹس جاری نہیں کیے جائیں گے، اور شہر کے شہریوں کو ٹینکرز سے نجات دلائی جائے گی۔ میئر کے مطابق کے ایم سی اس اقدام کے لیے 46 ارب روپے خرچ کرے گی، اور پانی کی کمی کو متبادل دنوں میں ہر علاقے تک پہنچانے کے ذریعے پورا کیا جائے گا۔

مرتضیٰ وہاب نے زور دیا کہ ٹینکرز کے ذریعے پانی فراہم کرنا مستقل حل نہیں، اور شہریوں کو درپیش مشکلات کم کرنے کے لیے یہ فیصلہ ناگزیر تھا۔ واضح رہے کہ کراچی کے کئی علاقوں میں پانی کی شدید قلت کے باعث شہری مہنگے ٹینکر خریدنے پر مجبور ہیں، اور نئے نظام سے ان کی روزمرہ زندگی آسان ہونے کی توقع ہے۔






Discussion about this post